وزیراعظم ٹاسک فورس کے انقلابی اقدامات، پاکستان میں جہاز سازی صنعت کی بحالی کا آغاز
کراچی شپ یارڈ کو کمرشل پی این ایس سی بحری جہازوں کی تیاری کا مرکزی کردار سونپ دیا گیا
کراچی — وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی جہاز سازی کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نئے پلان کے تحت کراچی شپ یارڈ کو کمرشل جہاز سازی میں مرکزی کردار سونپ دیا گیا ہے، جو اب پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے کمرشل جہاز تیار کرے گا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی شپ یارڈ کی جدید کاری، کمرشل جہاز سازی اور مرمت کی صلاحیتوں کو ترجیح دے کر ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
عالمی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کا حصول
حکومت پاکستان کو خطے میں جہاز سازی کا مرکز بنانے کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی اور تجارتی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔
بین الاقوامی اشتراک: جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور عالمی آرڈرز پاکستان لانے کے لیے بین الاقوامی شپ یارڈز کے ساتھ جوائنٹ وینچرز کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اداروں کا فعال کردار: بحری شعبے کی ترقی کے لیے قائم وزیراعظم ٹاسک فورس میں نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) سمیت دیگر قومی ادارے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہاربر کرافٹس کا معیار: ملک بھر کی بندرگاہوں پر استعمال ہونے والے تمام "ہاربر کرافٹس" کے معیار کو یکساں اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ملکی معیشت اور بلیو اکانومی پر اثرات
ماہرین کے مطابق، پاکستان جغرافیائی طور پر علاقائی "شپ بلڈنگ ہب" بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور یہ اصلاحات ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہیں۔
زرِ مبادلہ کی بچت: تمام ملکی جہاز سازی کے آرڈرز قومی شپ یارڈ کو دینے کے فیصلے سے غیر ملکی شپ یارڈز پر انحصار کم ہوگا، جس سے قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی۔
روزگار کے نئے مواقع: قومی شپ یارڈ کی بحالی سے پاکستانی انجینئرز، ٹیکنیشنز اور ہنرمندوں کے لیے روزگار کے کثیر مواقع پیدا ہوں گے۔
بلیو اکانومی کا فروغ: حکومت جہاز سازی کی صنعت کو قومی معاشی ترقی کا نیا انجن بنانے کے لیے پرعزم ہے، جو پاکستان کی "بلیو اکانومی" کے فروغ میں کلیدی سنگِ میل ثابت ہوگی eng