زیارت میں شہدا کی تدفین، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور محسن داوڑ سمیت کوئی سیاسی دکاندار نہ آیا

زیارت میں شہدا کی تدفین، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور محسن داوڑ سمیت کوئی سیاسی دکاندار نہ آیا

Jul 16, 2026|ویب ڈیسک

زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف وطن پر جان نچھاور کرنے والے پولیس کے بہادر شہداء کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ سوگواران نے نم آکھوں کے ساتھ شہداء کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر لحد میں اتارا۔ تاہم، پسماندگان کے اس غم میں شریک ہونے کے لیے حقوق اور قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والا کوئی بڑا سیاسی لیڈر زیارت نہ پہنچا۔ محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور محسن داوڑ سمیت کوئی بھی قوم پرست رہنما شہداء کی تدفین میں شریک نہیں ہوا، جس پر مقامی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔ 


میدانِ جنگ میں بہادری کی نئی داستان رقم کرنے والے زیارت پولیس کے شہداء کو پورے اعزاز کے ساتھ آہوں اور سسکیوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ وطن کی مٹی کا قرض چکھانے والے ان جری جوانوں کو الوداع کہنے پورا علاقہ امڈ آیا۔

شہداء کی میتوں کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر ابدی آرام گاہ کی طرف لے جایا گیا تو ہر آنکھ نم تھی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، لیکن اس پُر وقار اور غمناک موقع پر قوم پرستی کے دعویداروں کی عدم موجودگی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

شہدا کے ورثا کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹوں نے ملک کے لیے جان دی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ان لیڈروں کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہمیں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔

مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حقوق کی باتیں کرنے والے یہ قوم پرست رہنما صرف سیاست چمکانے کے لیے تو سامنے آتے ہیں، مگر جب سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کی قربانیوں پر اظہارِ یکجہتی کی بات ہو تو یہ سیاسی دکاندار غائب ہو جاتے ہیں۔

نہ اختر مینگل آئے، نہ محمود خان اچکزئی نظر آئے اور نہ ہی محسن داوڑ نے زیارت کا رخ کیا۔ تدفین کے موقع پر تمام بڑے سیاسی نام غائب رہے، جس سے ان کے دعووں اور ترجیحات کا پول کھل کر سامنے آ گیا ہے۔