عالمی امن میں پاکستان کا تاریخی سفارتی کردار، مودی پالیسی ناکام
امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ کا بڑا انکشاف: صدر ٹرمپ نے پاکستان کو بطور ثالث قبول کر لیا، بھارت سخت پابندیوں کی زد میں
اسلام آباد / واشنگٹن — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی بہترین سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی کے برعکس، مودی سرکار کی ناقص خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا پہنچا ہے جہاں بھارت پر امریکی پابندیوں اور تجارتی پابندیوں نے نئی دہلی کے عالمی وقار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
معروف امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی پالیسی سازوں نے اعتراف کیا ہے کہ واشنگٹن کی نظر میں اب چین کے مقابلے کے لیے بھارت کی وہ سٹریٹجک اہمیت باقی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔
مودی کی سفارتی تنہائی اور پاکستان کی عالمی اہمیت
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو تسلیم کرنا مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا۔ جہاں مودی کی ناقص حکمتِ عملی نے بھارت کو اس اہم وقت پر آگے بڑھنے سے روکا، وہاں پاکستان نے اس نازک سفارتی خلا کو انتہائی مہارت سے پُر کیا۔
امریکی اور بھارتی تجزیہ کاروں نے اس صورتحال کے درج ذیل بنیادی عوامل کی نشاندہی کی ہے:
آپریشن سندور کے اثرات: بھارتی تجزیہ نگار ڈاکٹر ہریندر سیکھن کے مطابق، صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت اور بالخصوص "آپریشن سندور" کے بعد سے بھارت مسلسل سخت امریکی پالیسیوں کے نشانے پر ہے۔
پاک امریکہ قریبی روابط: ٹرمپ کابینہ کا سخت رویہ، واشنگٹن کا اسلام آباد سے مسلسل رابطہ اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے معاملات نے امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
کشمیر پر ہٹ دھرمی: جریدے کے مطابق کشمیر کے دیرینہ جیو پولیٹیکل معاملے پر بیرونی ثالثی کی مخالفت بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی کا عکاس ہے جس نے اسے عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔
معاشی شکنجہ اور بھارتی میڈیا کی کڑی تنقید
امریکی تجزیہ کار ایڈورڈ لوس کا کہنا ہے کہ آنے والی کئی دہائیوں تک بھارت کے لیے چین کا ہم پلہ بننا ناممکن ہے۔ واشنگٹن نے اس وقت بھارت کو شدید معاشی دباؤ میں لے رکھا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
محصولات اور ویزا فیس میں اضافہ: امریکہ نے بھارت پر سخت تجارتی محصولات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ماہرین کے لیے ایچ ۔ 1 بی (H-1B) ویزا فیس میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔
روسی تیل پر پابندیاں: روسی خام تیل کی خریداری کی پاداش میں بھارت کو سخت امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سفارتی اور معاشی ناکامی پر مودی سرکار کو اندرونِ ملک بھی شدید مصلحت پسندی کا طعنہ سننے کو مل رہا ہے۔ سینئر بھارتی صحافی نیلو ویاس نے مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارت میں ایک سیاسی کمپرومائز حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے، نریندر مودی کے لیے موجودہ حالات میں امریکہ کے خلاف کسی بھی قسم کا سخت مؤقف اختیار کرنا اب ممکن ہی نہیں ر