افغانستان سے ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

افغانستان سے ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

Jul 7, 2026|ویب ڈیسک

افغان سرحد کے قریب فضا میں مشکوک ڈرون ٹریس، دو کلو سے زائد افیون برآمد

تاشقند — افغان طالبان کے زیرِ قبضہ افغانستان سے ڈرون کے ذریعے پڑوسی ملک ازبکستان میں منشیات اسمگل کرنے کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ اس کارروائی نے عالمی سطح پر ان خدشات کو ہوا دی ہے کہ افغان سرزمیں نہ صرف عسکریت پسندی بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس منشیات اسمگلنگ کا بھی نیا مرکز بن چکی ہے۔


ازبک میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسٹیٹ سیکیورٹی سروس اور بارڈر ٹروپس نے افغان سرحد کے قریبی علاقے سرخان دریا میں ایک مربوط مشترکہ کارروائی کے دوران یہ کامیابی حاصل کی۔


فضا میں مشکوک ڈرون کی سراغ رسانی اور برآمدگی

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حدود سے نامعلوم اسمگلروں نے ڈرون کے ساتھ منشیات باندھ کر اسے ازبکستان منتقل کرنے کی کوشش کی تھی، جسے بروقت ناکام بنایا گیا۔


بروقت کارروائی: ازبک سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے داخل ہونے والے مشکوک اسمگلر ڈرون کو فضا میں ہی ٹریس کر کے اپنے قبضے میں لے لیا۔


منشیات کی ضبطگی: ڈرون کی تلاشی لینے پر اس سے دو کلو 32 گرام اعلیٰ معیار کی افیون برآمد کر کے ضبط کر لی گئی۔


تحقیقات کا آغاز: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا مجرمانہ مقدمہ درج کر کے ڈرون کے لانچنگ پیڈ، مطلوبہ خریداروں اور مقامی سہولت کاروں کے خلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔


طالبان کے انسدادِ منشیات کے دعوؤں پر عالمی ماہرین کے سوالات

عالمی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ڈرون کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ نے افغان طالبان کے سرحدی کنٹرول اور منشیات کے خاتمے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔


"ڈرون کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ افغان رجیم کے سرحدی سیکیورٹی کنٹرول کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ طالبان کے انسدادِ منشیات کے تمام دعوے حقیقت سے عاری ہیں، اور موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کو ایک ایسی نارکو ایکانومی پر منحصر ریاست بنا دیا گیا ہے جہاں کارروائیاں اب ہائی ٹیک ہو چکی ہیں۔"

— بین الاقوامی امور کے ماہرین