افغانستان میں بگڑتی سیکیورٹی صورتحال پڑوسی ممالک کے لیے سنگین خطرہ
طالبان رجیم کی ناقص طرزِ حکمرانی اور دہشتگردوں کی سرپرستی پر علاقائی طاقتوں کی تشویش
واشنگٹن — افغانستان میں طالبان رجیم کے برسرِاقتدار آنے کے تقریباً 5 سال بعد بھی ملک بدترین علاقائی سیکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی جریدے یوریشیا ریویو کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، افغان رجیم کی ناقص طرزِ حکمرانی اور دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی نے خطے کے تمام پڑوسی ممالک کے لیے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
جریدے نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے موجودہ سیکیورٹی بحران کے منفی اثرات اب اس کی جغرافیائی سرحدوں سے باہر تک پھیل رہے ہیں، جو پورے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سرحد پار دہشتگردی اور ہمسایہ ممالک کے تحفظات
رپورٹ کے مطابق، افغان سرزمین پر موجود مختلف دہشتگرد تنظیمیں پڑوسی ممالک کی سلامتی کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے نمٹنے میں موجودہ کابل انتظامیہ ناکام رہی ہے۔
ہمسایہ ممالک کا عدم اعتماد: طالبان رجیم کا کنٹرول سیکیورٹی کے اس معیار پر پورا نہیں اتر سکا جس کی توقع پڑوسی ممالک کر رہے تھے۔
مشترکہ سیکیورٹی خدشات: پاکستان، چین، روس اور ایران کو افغان سرزمین سے جڑی سرحد پار دہشتگردی، بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور غیر مستحکم صورتحال پر شدید تحفظات ہیں۔
اندرونی تصدیق: نیشنل ریزسٹینس فرنٹ (NRF) کے سربراہ احمد مسعود بھی افغان سرزمیں پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرپرستی کی تصدیق کر چکے ہیں۔
عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ افغان صورتحال نے عالمی فورمز پر پاکستان کے دیرینہ موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
"طالبان رجیم کے تحت بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور سرحد پار خطرات سے پاکستان کا یہ موقف ایک بار پھر سچ ثابت ہوا ہے کہ موثر گورننس اور عالمی سیکیورٹی وعدوں کو پورا کیے بغیر افغانستان ایک ناکام ریاست کی نہج پر برقرار رہے گا۔"
— دفاعی و سیکیورٹی ماہرین