طالبان نظامِ حکومت میں عوام بدترین انسانی بحران کا شکار

طالبان نظامِ حکومت میں عوام بدترین انسانی بحران کا شکار

Jul 8, 2026|ویب ڈیسک

اقوامِ متحدہ اور ماہرین نے سنگین فاقہ کشی اور معاشی تباہی کے ہولناک اعداد و شمار جاری کر دیے

کابل — افغان طالبان حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں اور انتظامی نااہلی نے افغانستان کو تاریخ کے ہولناک ترین انسانی اور معاشی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق، طالبان حکومت شہریوں و بنیادی انسانی حقوق اور معاشی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، جبکہ ریاستی وسائل کا بڑا حصہ عوامی فلاح کے بجائے مخصوص عسکری ترجیحات پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

افغان میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ موجودہ نظامِ حکومت کے تحت روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں، جس نے ملک کی اکثریتی آبادی کو بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے (او سی ایچ اے) کی تشویشناک رپورٹ

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امدادی امور (OCHA) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری کردہ اپنے ایک حالیہ بیان میں افغان سرزمین پر جاری خاموش بحران کو بے نقاب کیا ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق، عالمی میڈیا کی نظروں سے دور رہنے کے باوجود لاکھوں افغان خاندان اس وقت سنگین ترین معاشی اور غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

افغان جریدے 'ہشت صبح' اور دیگر آزاد ذرائع کے مطابق صورتحال کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

74 فیصد آبادی فاقہ کشی پر مجبور: ملک میں روزگار کے وسائل یکسر ختم ہونے کی وجہ سے 74 فیصد سے زائد افغان عوام شدید فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

پینے کے صاف پانی کی قلت: افغان شہریوں کے مطابق بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی کے باعث پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے انسانی زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

خواتین پر پابندیاں اور وسائل کی کمی: انسانی امدادی امور کی ڈائریکٹر ایڈیم وسورنو کا کہنا ہے کہ فنڈز کی شدید کمی اور خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان عوام کی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔

29 ملین افغان شہری غربت کی لکیر سے نیچے منتقل

سابق افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو دنیا کا غریب ترین ملک بنا دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت تقریباً 29 ملین (2 کروڑ 90 لاکھ) افغان شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو کہ موجودہ عبوری حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے