پاکستان کی معاشی اصلاحات عالمی سطح پر سراہا جانے لگیں

پاکستان کی معاشی اصلاحات عالمی سطح پر سراہا جانے لگیں

Jul 8, 2026|ویب ڈیسک

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی ریٹنگ ایجنسی کے وفد سے ملاقات، میکرو اکنامک اشاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال

اسلام آباد — پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی استحکام پر عالمی اداروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے اعلیٰ سطح کے وفد نے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کی پائیداری کے عزم کی کھل کر تعریف کی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو، سینیٹر محمد اورنگزیب سے ایس اینڈ پی گلوبل کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال، کریڈٹ پروفائل اور جاری ساختی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مالی سال 27-2026 کے بجٹ اہداف اور معاشی استحکام

وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے نفاذ کے بعد سے ملکی معیشت کے بنیادی اشاریوں میں نمایاں اور مثبت تبدیلی آئی ہے۔ معاشی استحکام کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر: مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ ختم ہوا ہے۔

مستحکم بیرونی شعبہ: بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور بہتر تجارتی حکمتِ عملی سے روپے کو استحکام ملا ہے۔

سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد: حکومتی پالیسیوں کی بدولت مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

خسارے میں کمی اور نجکاری پروگرام

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ کم مالیاتی خسارے، ریکارڈ پرائمری سرپلس اور قرضوں کے بہتر انتظام نے ملک کی مالیاتی پائیداری کو مزید مستحکم کیا ہے۔ وفد کو مختلف شعبوں میں جاری بنیادی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا گیا:

ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور ڈیجیٹلائزیشن: ٹیکس چوری کے خاتمے اور ریونیو بڑھانے کے لیے جدید نظام کا نفاذ۔

توانائی اور سرکاری اداروں کی نجکاری: خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کی رفتار تیز کرنا تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم ہو۔

گورننس اور مالیاتی نظم و نسق: سرکاری سطح پر اخراجات کو کنٹرول کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا۔