پاک چائنہ فارماسیوٹیکل کانفرنس؛ 440 ملین ڈالر کے 9 معاہدے

پاک چائنہ فارماسیوٹیکل کانفرنس؛ 440 ملین ڈالر کے 9 معاہدے

Jul 18, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد — اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل، بائیوٹیکنالوجی اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ 2 روزہ 'پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس' میں دونوں ممالک نے مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں روپے کے تزویراتی معاہدوں پر دستخط کیے۔


بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس: پاک چین فارما شعبے میں اہم پیشرفت

ایس آئی ایف سی کے تعاون سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس نے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:


بڑے پیمانے پر شرکت: کانفرنس میں پاکستان اور چین کی 300 سے زائد نامور فارما کمپنیوں، چینی سپلائرز، سرمایہ کاروں اور کاروباری نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔


440 ملین ڈالر کے معاہدے: مشترکہ نشستوں کے نتیجے میں بائیوٹیکنالوجی اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 440 ملین ڈالر مالیت کے 9 اہم سرمایہ کاری معاہدے طے پائے۔


تحقیق اور جدت: چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تحقیق، جدت اور فارماسیوٹیکل شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کے بہترین امکانات موجود ہیں۔


ویکسین کی مقامی تیاری اور ملکی ضروریات کا احاطہ

صنعتی ماہرین اور کاروباری سربراہان نے ان معاہدوں کو ملکی دواسازی کی صنعت میں خود کفالت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا ہے۔


اہم ترین نکتہ: وی سول گروپ اور ایل ڈی ایس فارما کے سی ای او ظفر محمود نے واضح کیا کہ چینی شراکت داروں کے ساتھ ان معاہدوں کی بدولت اب پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو سکے گی، جس سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی بچے گا۔


ڈی ریگولیشن اور سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد

گروپ منیجنگ ڈائریکٹر او بی ایس اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اے جی پی لمیٹڈ کامران ناصر نے کانفرنس کے شاندار انعقاد پر وزارتِ صحت، ایس آئی ایف سی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فارماسیوٹیکل شعبے کی ڈی ریگولیشن میں ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوں گی