شہدائے زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ
کوئٹہ — حکومتِ بلوچستان اور زیارت دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک اہم تحریری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کے تحت دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور حکومت نے شہدائے زیارت کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
بلوچستان حکومت اور زیارت کمیٹی معاہدے کے اہم نکات
اس تزویراتی معاہدے کا مقصد صوبے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام، متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور انتظامی اصلاحات کو یقینی بنانا ہے۔ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:
جوڈیشل کمیشن کا قیام: شہدائے زیارت واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
مشترکہ مشاورتی اجلاس: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایک مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں صوبائی اپوزیشن جماعتیں اور شہداء کے لواحقین شریک ہو کر مطالبات پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔
پولیس فورس کی استعداد میں اضافہ: شہری علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس فورس کی نفری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور استعداد کار کو مزید بڑھایا جائے گا۔
محکمہ مال (ریونیو) کمیٹی: عوام کے زمینوں سے متعلق تحفظات اور شکایات کے ازالے کے لیے وزیرِ ریونیو کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنے گی، جس میں سرکاری افسران اور مقامی معتبرین شامل ہوں گے۔
شہداء کے لواحقین کے لیے مالی معاوضہ اور مراعات
کفالت، بچوں کی تعلیم اور سرکاری عمارتوں کی منسوب کاری
معاہدے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی طویل مدتی بحالی کے لیے مروجہ پالیسی کے تحت تمام اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
اہم ترین نکتہ: شہداء کے لواحقین کو مروجہ پالیسی کے مطابق مکمل مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا، خاندانوں کی مستقل کفالت کی جائے گی اور ان کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ مزید برآں، شہداء کی یاد میں مختلف سرکاری عمارات کو ان کے ناموں سے منسوب کیا جائے گا