وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی کوششیں کامیاب؛ دھرنا کمیٹی کے ساتھ تحریری معاہدہ طے
کوئٹہ — وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مفاہمتی حکمتِ عملی اور مدبرانہ قیادت کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور زیارت دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گئے ہیں، جس کے بعد فریقین نے ایک باوقار تحریری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس تزویراتی کامیابی سے صوبے میں امن، مفاہمت اور باہمی اعتماد کی ایک نئی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حکومتی کمیٹی اور جرگے کا اعلامیہ: آئین اور قانون کی بالادستی
معاہدے پر دستخط کے بعد دھرنا کمیٹی اور مقامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ و صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اہم پیشرفت پر روشنی ڈالی:
مفاہمتی حکمتِ عملی: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششوں سے شہدائے زیارت کے لواحقین کے ساتھ ایک باوقار اور مربوط تحریری معاہدہ ممکن ہوا۔
وعدوں کی تکمیل: یہ معاہدہ حکومت کے عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
جامع عملدرآمد: حکومت شہداء کے لواحقین کے تمام جائز مطالبات پر مروجہ پالیسی کے مطابق مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گی اور کسی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
سیکیورٹی اصلاحات اور شہداء کے لواحقین کے لیے اقدامات
حکومتی اعلامیے کے مطابق، صوبے میں امن و امان کے پائیدار قیام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اہم ترین نکتہ: شہدائے زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، امن و امان پر مستقل مشاورت اور پولیس فورس کی استعداد کار میں اضافہ حکومت کے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کا حصہ ہیں۔
صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے واضح کیا کہ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں، اور ان کے اہل خانہ کا احترام، کفالت اور فلاح و بہبود حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے پاک فوج، ایف سی، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی قربانیوں کی بدولت صوبے میں امن کی جدوجہد کامیابی سے جاری ہے