بھارتی  فوج  مودی کے سیاسی عزائم کا آلہ کار بن گئی

بھارتی فوج مودی کے سیاسی عزائم کا آلہ کار بن گئی

Jul 18, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی — ایک سابق بھارتی فوجی افسر نے ہندوستانی عسکری قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوج میں بڑھتی ہوئی سیاست اور ریاستی اداروں کو ہندوتوا کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سابق افسر کے اس بیان نے بھارتی دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

"فوجی قیادت مودی، اڈانی اور امبانی کی ایجنٹ بن چکی ہے"، سابق صوبیدار چوہان

سابق بھارتی فوجی صوبیدار چوہان نے موجودہ عسکری قیادت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اپنے اصل آئینی کردار سے ہٹ چکی ہے۔ معاہدے اور بیانات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

چاپلوسی کی مذمت: سابق فوجی افسر نے کہا کہ چور سیاسی لیڈروں اور بی جے پی کی چاپلوسی کرنے والی عسکری قیادت فوج کی وردی پر ایک دھبہ ہے۔

میدان میں آنے کی اپیل: انہوں نے حاضر سروس فوجیوں پر زور دیا کہ وہ ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے وطن کی حقیقی لاج رکھنے کے لیے میدان میں آئیں۔

مقدس پیشے کی توہین: انہوں نے واضح کیا کہ ماں باپ اپنے بچوں کو وطن کی حفاظت کے لیے فوج میں بھیجتے ہیں، نہ کہ ڈاکوؤں کی حفاظت کے لیے۔

بھارتی سرکار اور کارپوریٹ گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

ہندوتوا ایجنڈا اور اداروں کی تباہی

سابق فوجی کے مطابق مودی سرکار نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے فوج جیسے اہم ترین ادارے کو بھی کارپوریٹ مافیا کا محافظ بنا دیا ہے۔

اہم ترین نکتہ: ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے بھارتی فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو سیاست زدہ کر دیا ہے، جس سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

مودی کی ایماء پر اداروں کا سیاسی استعمال: ماہرینِ دفاع

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ بھارتی فوجی قیادت مودی کی ایماء پر ملک میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیشہ ورانہ فوج کو سیاسی رنگ دینے اور کارپوریٹ سرپرستی کے لیے استعمال کرنے سے داخلی سطح پر سیکیورٹی اداروں کے وقار کو شدید نقصان پہنچا ہے