ملک میں نئے انتظامی یونٹس ناگزیر: نوجوان نسل کا واضح فیصلہ
اسلام آباد — ملک بھر میں پائیدار ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور موثر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کو نوجوان نسل کی بھرپور تائید حاصل ہو گئی ہے۔ ملک گیر سطح پر کیے گئے ایک سروے پول میں چاروں صوبوں کے طلبہ و طالبات کی واضح اکثریت نے چھوٹے انتظامی یونٹس تشکیل دینے کے حق میں فیصلہ کن رائے دی ہے۔
چاروں صوبوں کے طلبہ کا موثر گورننس پر اتفاقِ رائے
اس سروے میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے جامعاتی طلبہ نے شرکت کی اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کی بحالی پر زور دیا۔ نوجوانوں کے مطابق بڑی اور گنجان آبادی والے صوبوں کے بجائے چھوٹے انتظامی یونٹس ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان حائل دوریاں کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔
سروے کے نمایاں نتائج اور طلبہ کی تجاویز
عوامی مسائل کا فوری حل: چھوٹے صوبے بننے سے نچلی سطح پر شکایات کا ازالہ ممکن ہوگا اور اعلیٰ حکام تک عام شہری کی رسائی آسان بنے گی۔
بہتر سروس ڈیلیوری: صحت اور بنیادی تعلیم کی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوگا جبکہ عوامی فلاح کے منصوبے تیز رفتاری سے مکمل ہوں گے۔
جرائم پر قابو: محدود جغرافیائی دائرہ کار کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت مضبوط ہوگی اور جرائم کی شرح میں واضح کمی آئے گی۔
رکاوٹوں کا خاتمہ: سرخ فیتے اور بیوروکریٹک تاخیر کا خاتمہ ہو کر حقیقی معنوں میں گڈ گورننس قائم ہو سکے گی۔
پائیدار قومی ترقی کے لیے انتظامی اصلاحات کا تقاضا
طلبہ برادری کے مطابق اب وقت آ چکا ہے کہ ملکی ترقی کو علاقائی توازن کے ساتھ جوڑا جائے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ ملک میں پائیدار خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب انتظامی اختیارات کو گراس روٹ لیول تک منتقل کیا جائے، تاکہ ہر مکتبہ فکر اور ہر خطے کو مساوی مواقع حاصل ہو سکیں۔