منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار ناکام
امپھال میں درجنوں مکانات کو آگ لگا دی گئی، بھارتی جریدے 'دی اسٹیٹ مین' کے سنسنی خیز انکشافات
نئی دہلی — 13 جولائی 2026: بھارتی ریاست منی پور ایک بار پھر نسلی فسادات کی آگ میں جل اٹھی ہے۔ مودی سرکار کی یک طرفہ اور ناکام پالیسیوں نے ریاست کو بدترین خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں نسلی فسادات نے انتہائی شدت اختیار کر لی ہے۔ بھارت کے اپنے معتبر جریدے "دی اسٹیٹ مین" نے منی پور کی تازہ ترین صورتحال پر مودی حکومت کی نااہلی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق، منی پور کے ضلع امپھال کے جنوبی علاقے میں مشتعل افراد نے متعدد مکانات کو آگ لگا دی، جس کے بعد پورے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس واقعے نے منی پور کے نام نہاد امن کے دعووں کو ایک بار پھر مٹی میں ملا دیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں ہینگ جنگ گاؤں کے سربراہ سمیت دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مودی سرکار اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پینترے بدلنے لگی
بھارت کی معروف انسانی حقوق کی کارکن نندتا ہاکسر نے منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حقیقت پسندی سے پردہ اٹھایا ہے:
حقائق مسخ کرنے کی کوشش: مودی سرکار منی پور میں جاری پرتشدد واقعات کی اصل اندرونی اور سیاسی وجوہات کو چھپانے میں مصروف ہے۔
غیر ملکی مداخلت کا بے بنیاد راگ: مودی حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے مضحکہ خیز طور پر "غیر ملکی مداخلت" کے الزامات کو بطور جواز استعمال کر رہی ہے۔
امن و امان کی دگرگوں صورتحال: حالیہ ہولناک فسادات اور املاک کو جلائے جانے کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بی جے پی حکومت ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے