سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی: گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ کے سنسنی خیز انکشافات

سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی: گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ کے سنسنی خیز انکشافات

Jul 27, 2026|ویب ڈیسک

خضدار — سیکیورٹی فورسز کے ایک کامیاب آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے فتنہ الہندوستان (کالعدم بی ایل اے) کے دہشت گرد حبیب اللہ نے تنظیم کے اندرونی مظالم، مالیاتی لالچ، اور جعلی نعروں کی آڑ میں نوجوانوں کی برین واشنگ سے متعلق انتہائی سنسنی خیز اور ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔

خبر کے اہم نکات

• دہشت گرد کی شناخت: گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ کا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ سے ہے۔

• مالی استحصال: دہشت گرد نے اعتراف کیا کہ اسے محض 25,000 روپے کے عوض اپنے ہی بلوچ بھائیوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

• بی وائے سی کا تعلق: حبیب اللہ کی نشاندہی بی وائے سی (BYC) کے دھرنوں کے دوران ہوئی، جس کے بعد اسے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔

• بلیک میلنگ اور بلیک ہول: تنظیم میں شامل ہونے والے افراد کو واپس جانے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی جاتی ہے، جبکہ کیمپوں میں کھانے پینے کی راشن فراہم کرنے کے بجائے دیہات میں لوٹ مار کروائی جاتی ہے۔

بھرتی کا طریقہ کار اور عسکری تربیت

گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اسے بے روزگاری کے دوران جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا گیا۔ پہلے چنل دشت منتقل کر کے اس کی ذہن سازی کی گئی اور بعد ازاں سرگڑھ کیمپ میں باقاعدہ عسکری تربیت دی گئی۔

"سرگڑھ کیمپ میں مجھے جدید اسلحہ، بارودی مواد چلانے اور گھات لگا کر حملے کرنے کی تربیت دی گئی۔ حملوں کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کے طریقے بھی سکھائے گئے۔"

— حبیب اللہ، گرفتار دہشت گرد

دہشت گردانہ کارروائیوں میں شمولیت

حبیب اللہ نے اعتراف کیا کہ وہ متعدد اہم حملوں اور لاجسٹک کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے:

حملہ / مقام نوعیت اور اعتراف

خضدار پولیس چیک پوسٹ فائرنگ کے دوران 2 بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے

بیلہ اور خضدار حملے کارروائی مکمل کرنے پر محض 25,000 روپے معاوضہ ملا

سنارو کیمپ اور نال اسلحہ، گولہ بارود، ادویات اور خوراک کی نقل و حمل کی ذمہ داری

بی وائے سی کا ملوث ہونا اور کیمپوں کے ابتر حالات

دہشت گرد کے اعترافی بیان نے بی وائے سی کے دھرنوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان بلاواسطہ رابطوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حبیب اللہ نے بتایا کہ اس جیسے کئی دیگر نوجوان جنہیں ملازمت یا بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر لایا جاتا ہے، بعد میں بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

عسکری کیمپوں کی تلخ حقیقت

• واپسی پر موت: جو بھی جنگجو تنظیم کو چھوڑ کر عام زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتا ہے، اسے مار دیا جاتا ہے۔

• دیہات میں لوٹ مار: کیمپوں میں خوراک کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں ہوتا؛ گجر اوقات کے لیے قریبی دیہاتوں کے غریب شہریوں کو لوٹا جاتا ہے۔

• پراکسی نیٹ ورک: بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز کو دھرنوں کی آڑ میں نئے جنگجوؤں کی نشاندہی اور بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ کے اعترافی بیان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور اس کے سہولت کار بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر کے خطے کے امن و معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔