بھارت: امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا شدید احتجاج، مودی سرکار کا کریک ڈاؤن

بھارت: امتحانی بے ضابطگیوں پر طلبہ کا شدید احتجاج، مودی سرکار کا کریک ڈاؤن

Aug 31, 2026|ویب ڈیسک

​نئی دہلی: بھارت کی ریاست بہار میں سول سروسز کے امیدواروں اور طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں نوجوان بھرتیوں میں تاخیر، پیپر لیک اسکینڈلز اور بدانتظامی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مودی سرکار کی جانب سے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے مظاہرین کو لاٹھی چارج، واٹر کینن اور جبری گرفتاریوں کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر سخت عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

​پولیس کو احتساب سے بچنے کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے: راہول گاندھی

​بھارتی میڈیا جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق، اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بہار پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے امتحانی تنازع پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی انتظامیہ اپنی نااہلی چھپانے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے پولیس فورس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جو حکمران جماعت کی جمہوری اقدار سے عاری ذہنیت کا ثبوت ہے۔

​طلبہ تحریک کے کلیدی محرکات اور مطالبات:

​امتحانی بے ضابطگیاں: امتحانات کے انعقاد میں شفافیت کے فقدان، طویل تاخیر اور مسلسل پیپر لیکس نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

​ریاستی جبر: مطالبات پیش کرنے والے پرامن طلبہ پر پولیس کا وحشیانہ لاٹھی چارج اور اجتماعی گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں۔

​استعفے کا مطالبہ: احتجاجی تحریک کے رہنما امان کمار کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کی تباہی کے خلاف شروع ہونے والی یہ مہم مرکزی وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک جاری رہے گی۔

​نوجوانوں کا غصہ اور انتخابی سیاست پر اثرات

​طلبہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مودی حکومت روزگار کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ یہ بحران بی جے پی کے طرزِ حکمرانی پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔