ایرانی صدر کا دورہ پاکستانن : اہم کیا ہے؟
آصف محمود
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان جنگ کے بعد ایران کی جانب سے کسی بھی ملک کا پہلا دورہ ہے، اور یہ چیز اس دورے کی سفارتی، تزویراتی اور معاشی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ یہ دورہ جہاں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی توثیق ہے، وہیں عالمی سیاست میں پاکستان کے قائدانہ کردار کا اعتراف بھی ہے۔ یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان نے اس جنگ کے دوران جس خیرخواہانہ کردار کا مظاہرہ کیا، برادر اسلامی ملک ایران اس خیرخواہی کا عملی اعتراف کر رہا ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی کے دو بنیادی اصول رہے ہیں۔
پہلا اصول یہ ہے کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہمیں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک توازن قائم رکھنا ہے۔ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہمارے دل کے قریب ہے، ہمارے احترام اور عقیدت کا مرکز ہے۔ وہاں مقامات مقدسہ واقع ہیں جن پر ہم دل و جان سے فدا ہیں۔ اس لیے سعودی عرب سے ہم دور ہو ہی نہیں سکتے۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت ہی غیر معمولی اور مثالی ہیں۔
تاہم ایران بھی ہمارا برادر اسلامی ملک اور ہمارا پڑوسی ہے۔ ہمارے خطے میں اس کے ساتھ گہرے تزویراتی اور سفارتی روابط موجود ہیں، اس لیے ہم ایران کو بھی ناراض نہیں کر سکتے۔ حالات جیسے بھی ہوں، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی اصول ہر دور میں کارفرما رہا ہے، اور ہم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اس توازن کو کبھی خراب نہیں ہونے دیا۔
چنانچہ آج مسلم دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران کے ساتھ بھی اسی اعتماد سے بات کر سکتا ہے جس اعتماد سے وہ سعودی عرب کے ساتھ بات کرتا ہے۔ ایران کو بھی معلوم ہے کہ پاکستان سراپا خیر ہے، اور سعودی عرب کو بھی اس بات کا اطمینان ہے کہ پاکستان سراپا خیر ہے۔ پاکستان ان دونوں میں سے کسی کا حریف نہیں بلکہ دونوں کے لیے احترام، خیرخواہی اور ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے۔
یہ توازن قائم رکھنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مسلم دنیا کی تزویراتی اور سیاسی پیچیدگیوں کو جو لوگ سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک نہایت مشکل ذمہ داری تھی، لیکن پاکستان نے اسے کامیابی سے نبھایا۔ ایک جانب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی اور ایران کو اس جنگ کی دلدل سے نکالنے میں معاونت فراہم کی، تو دوسری جانب پاکستان نے یہ بھی واضح کر دیا کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور ہمارے لیے نو گو ایریا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی نے سعودی عرب کی خودمختاری کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔
چنانچہ اگر یہ جنگ ایران اور عرب دنیا کے درمیان ایک وسیع تصادم میں تبدیل نہیں ہوئی تو اس میں پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کا بھی اہم حصہ ہے۔ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی اصول پر عمل کرتے ہوئے خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ اسلامی دنیا کو باہمی تصادم سے بچانے کی کوشش کی۔ اسی لیے اگر جنگ کے بعد ایرانی قیادت سب سے پہلے پاکستان کے دورے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ پاکستان کے کردار کی توثیق بھی ہے اور اس کی تحسین کا ایک اظہار بھی۔
ہماری خارجہ پالیسی کا دوسرا بنیادی اصول یہ تھا کہ چین ہمارا بہت قریبی دوست ہے، چین کے ساتھ ہمارے طویل المدتی تجارتی، دفاعی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں، چین کے ساتھ ہماری دوستی غیر معمولی ہے، یہ سمندروں سے گہری ہے، یہ ہمالیہ سے بلند ہے، چین کے ساتھ تو ہم کھڑے ہی کھڑے ہیں، لیکن امریکہ بھی دنیا کی ایک حقیقت ہے، وہ ایک بین الاقوامی طاقت ہے، اس لیے ہم نے امریکہ کو بھی ناراض نہیں کرنا اور چین کے بھی ساتھ کھڑے رہنا ہے۔
دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان یہ توازن قائم رکھنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا، لیکن پاکستان نے اس امتحان میں بھی خود کو سرخرو کیا۔ چنانچہ آج پاکستان اسی اعتماد سے امریکہ سے بھی بات کر سکتا ہے جس اعتماد سے وہ چین سے بات کر سکتا ہے۔ امریکی قیادت بھی پاکستانی قیادت کی تعریفیں کر رہی ہے اور چین بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہا ہے۔
یہ پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے اور یہ کامیابی پاکستان کو اس خطے میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ پاکستان نے اپنی فارن پالیسی کے بنیادی اصولوں پر ہمیشہ عمل کیا اور حالات کی سنگینی اور پیچیدگیاں کیسی ہی کیوں نہ رہیں، پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر کبھی کمپرومائز نہیں ہونے دیا۔
ہمارے ہاں ، اپنے ملک پر ہر وقت تنقید کرتے رہنے کی عادت اب ایک بیماری کا درجہ اختیار کر گئی ہے ورنہ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں ایسی ہیں کہ ان پر فخر کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر کے درہ پاکستان کے ساتھ امکانات کا ایک جہاں وابستہ ہے۔ پاکستان کی ثالثی نے خود ایران کے لیے امکانات کی ایک دنیا آباد کر دی ہے ، وہ دوبارہ سے عاالمی معاشی نظام سے جڑنے جا رہا ہے ، اس کے منجمد اثاثے بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں ، اس سے ایران کے لیے تو بے شمار فائدے ہیں ہی ، پاکستان کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔
ایران کے ساتھ طویل سرحد پر اب منظر بدل جائے گا۔ اب بلوچستان میں دہشت گردی سے نبٹنا پاکستان کے لیے مزید آسان ہو گا۔ کیونکہ ایران اور پاکستان اب تعلقات کے ایک نئے دور سے گزر رہے ہیں ۔
اسی طرح باہمی بارٹر ٹریڈ کے امکانات روشن ہیں ۔ پاکستان کے لیے ایران کی صورت میں وسچ ایشیا تک راہداری دستیاب ہو گی۔ سستا تیل مل سکے گا۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر کام ہو سکے گا۔ یعنی امکانات کا جہاں آباد ہونے رہا ہے۔ اور اگر ایسا کامیابی سے ہو گیا تو پاکستان کی ثالثی ، اس کی خیر خواہی اور اس کی فارن پالیسی کا یہ توازن اس کامیابی کے اولین نقوش میں شمار کیا جائے گا۔