بھارت میں اسلامی ورثہ نشانے پر، مساجد کی مسماری جاری

بھارت میں اسلامی ورثہ نشانے پر، مساجد کی مسماری جاری

Oct 28, 2026|ویب ڈیسک



بھارت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دورِ حکومت میں ہندوتوا نظریے کے فروغ اور مسلم تاریخی ورثے کو مٹانے کی مہم شدت اختیار کر گئی ہے۔ عالمی جریدے ’شیعہ ویوز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میں بلدیاتی حکام کی جانب سے مساجد اور تاریخی اسلامی مقامات کو خالی کرانے اور انہیں مسمار کرنے کے لیے جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں۔


رپورٹ کے مطابق مسماری کی زد میں آنے والے متعدد مقامات کی بجلی اور پانی سمیت بنیادی سہولیات پہلے ہی منقطع کر دی گئی ہیں۔ جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں اب تک دو ہزار سے زائد کارروائیوں کے دوران درجنوں مساجد اور دینی مدارس کو شہید یا مسمار کیا جا چکا ہے۔


دوسری جانب عالمی نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کا کہنا ہے کہ بھارتی اپوزیشن اور مسلم رہنما ان بلڈوزر کارروائیوں کو نریندر مودی کا مسلم کش سیاسی ہتھیار قرار دے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں اور رہنماؤں کے مطابق مودی سرکار کے یہ اقدامات بھارت کے نام نہاد آئینی و سیکولر ڈھانچے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔