چین سے روایتی طریقوں سے نمٹنا اب ممکن نہیں: بھارتی بارڈر پولیس
بھارت اور چین کے درمیان متنازع سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں بھارتی بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے چین کے مقابلے میں اپنی دفاعی پوزیشن اور کمزوری کا واضح اعتراف کر لیا ہے۔
شتروجیت کپور نے تسلیم کیا کہ اروناچل پردیش میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، اور اب بھارت کے لیے روایتی عسکری طریقوں سے چین کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس کی بدولت وہ عسکری میدان میں بھارت سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
بھارتی میڈیا ادارے 'سی این این نیوز 18' کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں چینی صدر کے دورۂ بھارت کے دوران بھی سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے مابین جھڑپیں ہوتی رہی تھیں۔
دفاعی و سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں، جس نے نئی دہلی کے نام نہاد دفاعی دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چین کے سامنے بھارتی فورسز کی بے بسی اور ماضی میں پاک فوج کے ہاتھوں ملنے والی ہزیمت مودی کی ناکام سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔