افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی گوریلا کارروائیوں میں تیزی
افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی گروہوں کی گوریلا کارروائیوں میں مسلسل تیزی آ گئی ہے، جس نے کابل انتظامیہ کے مؤثر کنٹرول اور سیکیورٹی دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مخالف گروپوں نے صوبہ تخار، پروان اور بدخشاں میں مربوط اور منظم حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان کے سابق جنرل یاسین ضیا کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیم 'افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ' کے مطابق، صوبہ تخار کے دارالحکومت تالقان میں طالبان کی انٹیلی جنس ٹیم کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں اہم کمانڈر سمیت چار اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبہ پروان میں کابل نارتھ شاہراہ پر واقع ایک چوکی پر حملے کے دوران تین طالبان اہلکار مارے گئے اور دو زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کی تنظیم 'افغان گرین ٹرینڈ' نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کی 219ویں بریگیڈ کی ایک عسکری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
طالبان مخالف گروہوں کی ان پے در پے کارروائیوں نے مختلف صوبوں میں سیکیورٹی صورتِ حال کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔