فضائی حدود بندش اور حادثات: ایئر انڈیا شدید بحران کا شکار، مودی کے دعوے بے نقاب
نئی دہلی / لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) — پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش اور مسلسل حفاظتی مسائل کے باعث بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری شدید زوال کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جس نے مودی حکومت کے نام نہاد ترقیاتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
برطانوی جریدے دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق، 2025 کے ہلاکت خیز فضائی حادثے کے بعد ایئر انڈیا کے لیے مقامی اور بین الاقوامی بالخصوص برطانوی مسافروں کا اعتماد بحال کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ حفاظتی معیارات پر اٹھنے والے سوالات اور منفی خبروں نے مسافروں میں شدید عدم اعتماد اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
مسافروں کی تعداد میں تاریخی کمی اور اعداد و شمار
برطانوی ایوی ایشن اینالیٹکس کمپنی سریئم (Cirium) کے جاری کردہ ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت سے برطانیہ کے فضائی روٹس پر مسافر اب ایئر انڈیا کے بجائے دیگر متبادل فضائی کمپنیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اگست و ستمبر 2025: حادثے کے فوراً بعد مسافروں کی تعداد میں بالترتیب 11 فیصد اور 19 فیصد کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
اپریل 2026 کا بحران: گزشتہ برس (اپریل 2025) کے مقابلے میں ایئر انڈیا کے مسافروں کے حجم میں ریکارڈ 27 فیصد کمی نوٹ کی گئی۔
مودی حکومت کی ناقص پالیسیاں اور ماہرین کی رائے
ایوی ایشن امور کے ماہر سنجے لیزار کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں بھارت کا ہوابازی کا شعبہ اصلاحات کے بجائے بدانتظامی اور مکمل بدحالی کا شکار ہو چکا ہے۔
دفاعی و تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ائیرلائنز کے روٹس طویل اور غیر منافع بخش بنا دیے ہیں، جس سے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر ایک نہ ختم ہونے والے مالی و آپریشنل بحران میں پھنس چکا ہے۔