وزیراعظم ٹاسک فورس کی بحری اصلاحات: پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں خود انحصاری کا آغاز

وزیراعظم ٹاسک فورس کی بحری اصلاحات: پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں خود انحصاری کا آغاز

Sep 1, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد (ویب ڈیسک) — پاکستان کے 100 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سمندری وسائل کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف بیرونی انحصار ختم کر کے ملک کو میری ٹائم شعبے میں خود کفیل بنانا ہے۔

​طویل عرصے تک ملکی و بین الاقوامی کارگو کی ترسیل کے لیے غیر ملکی بحری جہازوں پر انحصار کے باعث قومی معیشت کو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے خسارے کا سامنا رہا۔ اس صورتحال نے بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی جدید کشتیوں کی تیاری اور قومی بیڑے کی توسیع جیسے اہم شعبوں کو بری طرح متاثر کیا۔

​بیرونی انحصار اور تاریخی چیلنجز

​اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی سمندری تجارت میں مقامی شپنگ انڈسٹری کا حصہ تاریخی طور پر محض 11 فیصد تک محدود رہا، جس کی بنیادی وجوہات درج ذیل رہیں:

​شپنگ کا بیرونی انحصار: ملکی کارگو کی 89 فیصد ترسیل غیر ملکی جہاز رانی کمپنیوں کے سپرد رہی۔

​تکنیکی انحصار: بندرگاہوں کی بحالی، ڈریجنگ اور ماہی گیری کے جدید انفراسٹرکچر کے لیے بیرونی فرموں پر مسلسل انحصار۔

​بھاری زرمبادلہ کا زیاں: فریٹ چارجز اور بحری خدمات کی مد میں سالانہ اربوں ڈالرز ملکی معیشت سے باہر منتقل ہوتے رہے۔

​99 نکاتی بحری روڈ میپ اور آئندہ کا لائحہ عمل

​ان ساختی مسائل کے دیرپا حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 24 دسمبر 2024 کو ایک جامع 99 نکاتی بحری روڈ میپ کی منظوری دی گئی، جس پر اب مربوط انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔

​اس روڈ میپ کا محور بندرگاہوں کی ڈیجیٹلائزیشن، شپنگ و لاجسٹکس کی جدیدکاری، مقامی سطح پر جہاز سازی (شپ بلڈنگ) کی استعداد میں اضافہ اور ماہی گیری کے شعبے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ پاکستان کا بحری شعبہ پائیدار، شفاف اور منافع بخش معاشی حب بن سکے۔