بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو بے شمار وسائل باصلاحیت افراد اور مخلص سرکاری افسران سے مالا مال ہے مگر افسوس کہ یہاں ایک ایسا نظام بھی موجود ہے جہاں اکثر اوقات صلاحیت دیانت داری اور اصول پسندی جرم بن جاتی ہے جو افسر قانون اور ضابطے کے مطابق کام کرنا چاہے اسے مختلف طریقوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سفارش اثر و رسوخ اور طاقت کے سہارے آگے بڑھنے والوں کے لیے راستے آسان بنا دیے جاتے ہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی مواقع پر بعض بااثر افسران اپنے ماتحت افسران کو ایسے احکامات دیتے ہیں جو قانون قواعد یا عوامی مفاد کے منافی ہوتے ہیں جب کوئی افسر ضمیر اور قانون کے مطابق ایسے احکامات ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کبھی اس کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیا جاتا ہے کبھی احتسابی اداروں کو خطوط لکھے جاتے ہیں اور کبھی اسے او ایس ڈی بنا کر یا غیر اہم عہدوں پر تعینات کرکے عملی طور پر سزا دی جاتی ہے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں محض کسی درخواست یا الزام کو بعض حلقے جرم کا ثبوت سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اصولی طور پر ہر الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر کسی افسر کے خلاف شکایت موجود ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ قصوروار بھی ہے بدقسمتی سے بعض اوقات ذاتی دشمنی سیاسی اختلافات یا گروہی مفادات کے تحت بھی شکایات درج کروائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ایک بے گناہ افسر سالہا سال اپنی صفائیاں پیش کرتا رہتا ہے دوسری طرف ایسے افسران بھی موجود ہیں جو برسوں سے اہم اور مالی لحاظ سے حساس عہدوں پر براجمان ہیں ان کی مسلسل تعیناتی پر سوالات اٹھتے ہیں مگر انہیں ہٹانے یا ان کے معاملات کا جائزہ لینے کی ہمت کوئی نہیں کرتا وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ ان کے پیچھے طاقتور حلقوں کی حمایت موجود ہوتی ہے یہی وہ دوہرا معیار ہے جو سرکاری نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اگر صوبے میں واقعی میرٹ شفافیت اور اچھی حکمرانی کو فروغ دینا مقصود ہے تو حکومت کو چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے سب سے پہلے کسی بھی افسر کے خلاف محض الزام یا شکایت کی بنیاد پر اس کی پیشہ ورانہ ساکھ کو متاثر نہ کیا جائے دوسری بات تعیناتیوں اور تبادلوں میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے تاکہ ہر اہل اور دیانت دار افسر کو آگے بڑھنے کا یکساں موقع مل سکے تیسری بات احتساب کا عمل سب کے لیے یکساں ہو نہ کوئی بااثر شخصیت قانون سے بالاتر ہو اور نہ کوئی کمزور افسر بلاوجہ نشانہ بنے
وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ ان افسران کی فہرستیں طلب کریں جو برسوں سے اہم عہدوں پر تعینات ہیں اور ساتھ ہی ان افسران کا بھی جائزہ لیں جو قابلیت اور اچھی شہرت کے باوجود غیر مؤثر عہدوں پر دھکیل دیے گئے ہیں صرف فائلوں میں درج الزامات نہیں بلکہ افسران کی مجموعی کارکردگی دیانت داری اور عوامی خدمت کو بھی فیصلوں کی بنیاد بنایا جانا چاہیے بلوچستان کو آج ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ایماندار افسر خوف کے بغیر کام کر سکے جہاں قانون کی پاسداری کرنے والا سزا نہیں بلکہ حوصلہ افزائی حاصل کرے اور جہاں احتساب کا معیار شخصیت نہیں بلکہ شواہد ہوں۔ اگر یہی روش برقرار رہی کہ بااثر افراد طاقت کے بل پر فیصلے کرواتے رہیں اور باصلاحیت افسران دیوار سے لگتے رہیں تو صوبے میں اچھی حکمرانی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا ³حکومت کو چاہئے کہ شریف باصلاحیت اور فرض شناس افسران کو تحفظ دیا جائے اور حکامِ بالا سچ اور جھوٹ الزام اور ثبوت دیانت اور کرپشن کے درمیان واضح فرق قائم کریں یہی فرق بلوچستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے