قلات ڈویژن کی تقسیم کے خلاف نواب اسلم رئیسانی کی بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست
کوئٹہ (ویب ڈیسک): رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے قلات ڈویژن کے خاتمے اور مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں حکومت بلوچستان کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامی تقسیم کا یہ فیصلہ عوامی نمائندوں اور مقامی قبائل کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا، جو کہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
[H2] عوام کو سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: نواب اسلم رئیسانی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی اور ان کے وکیل ریاض احمد ایڈوکیٹ نے کیس کے اہم نکات کو اجاگر کیا:
تاریخی حیثیت کو نقصان: نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ اس فیصلے سے قلات اور سراوان جھالاوان کی تاریخی حیثیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
بنیادی حقوق کی پامالی: 1973ء کا آئین تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، مگر حکومت نے مستونگ اور قلات کے عوام اور عوامی نمائندوں کی آواز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔
قبائلی اراضی کے تحفظ کا مطالبہ: انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی الاٹمنٹ یا اراضی کی خریداری میں مقامي قبائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
"بلوچستان کا مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ خالصتاً سیاسی ہے۔ محض وزراء اعلیٰ کی تبدیلی سے حالات بہتر نہیں ہوں گے، بلکہ حکمرانوں کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوں گی۔ حالات کی بہتری کے لیے اب ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔" — نواب اسلم رئیسانی
[H3] دیگر اہم مطالبات
کابینہ کی خاموشی پر تنقید: انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس فیصلے سے صوبائی کابینہ کے اراکین بھی متاثر ہوئے ہیں، مگر وہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ: نواب اسلم رئیسانی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے اسیر رہنماؤں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا