بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ بھارت ملتوی: مودی سرکار کو سفارتی محاذ پر پسپائی

بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ بھارت ملتوی: مودی سرکار کو سفارتی محاذ پر پسپائی

Aug 26, 2026|ویب ڈیسک

بنگلہ دیشی وزیراعظم کا دورہ بھارت ملتوی: مودی سرکار کو سفارتی محاذ پر پسپائی

​نئی دہلی / ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سربراہِ حکومت کے پہلے متوقع دورۂ بھارت کے التوا نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور نئی دہلی کی علاقائی سفارتی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔

حسینہ واجد کی پناہ اور پریس کانفرنس پر ڈھاکہ کا شدید ردعمل

​بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور بھارت میں ان کی سیاسی پناہ کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

​نئی دہلی میں مفرور سابق وزیراعظم کی پریس کانفرنس نے بنگلہ دیش کے عوامی اور سفارتی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں باہمی مذاکرات کا ماحول مزید تلخ ہو گیا۔

دورے کے التوا اور تعلقات میں تناؤ کے بنیادی اسباب

​حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ: بنگلہ دیش کی عبوری قیادت بھارت سے سزایافتہ شیخ حسینہ واجد کی فوری حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کر رہی ہے۔

​سازگار ماحول کا فقدان: ڈھاکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے حسینہ واجد کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے اعلیٰ سطحی رابطوں کے لیے سازگار ماحول ختم ہو گیا۔

​سرحدی تنازعات اور بیانات: بی جے پی حکومت کی جانب سے سرحد پر نئی باڑ لگانے کے اقدامات اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔

علاقائی تسلط پسندی اور سفارتی حرکیات میں تبدیلی

​معروف تجزیہ کار سری رادھا دتہ کے مطابق، بھارت کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے یہ سمجھنا ہوگا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ قیادت کے تعلقات حسینہ واجد کے دور جیسی یکطرفہ گرمجوشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

​بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سمیت خطے کے دیگر ممالک کا آزادانہ خارجہ پالیسی پر کاربند رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑوسی ممالک اب نئی دہلی کا بالادست رویہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔