آج ریاست اور عوام ایک ہی مقصد کے لیے یکجا نظر آتے ہیں اور وہ مقصد دہشت گردی کا مکمل اور جڑ سے خاتمہ ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری، جوان، افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وطن کے امن اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہے، تاہم دشمن عناصر اب بھی مختلف شکلوں میں ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان میں بیرونی سرپرستی میں چلنے والی کالعدم تنظیمیں مسلسل بدامنی پھیلانے، عوام کو خوفزدہ کرنے اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔گذشتہ چند دنوں میں جنوبی بلوچستان میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جس موثر انداز میں کارروائیاں کی ہیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ یہ کارروائیاں صرف عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہیں۔پنجگور کے علاقے چیدگی سے ملحقہ سیہان کے پہاڑی سلسلے میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی کامیاب نشاندہی کی۔ اس کے بعد آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے چھ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔جس میں پچاس کلوگرام آئی ای ڈی دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی بذات خود اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ یہ عناصر کس پیمانے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔سوچیے اگر یہ مواد دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا تو بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔اسی طرح مند کے علاقے ہوت آباد میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اہم دہشت گرد بشیر عرف جلات جہنم رسید ہوا۔ یہ دہشت گرد نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھا بلکہ مقامی آبادی کو ہراساں کرنے، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں بھی سرگرم تھا۔ اس کے قبضے سے برآمد ہونے والا جدید اسلحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر بیرونی قوتوں کی سرپرستی میں اپنی تخریبی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہتے تھے، تاہم ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔دالبندین کے علاقے لگاپ میں ہونے والا ایک اور کامیاب آپریشن بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اہم کمانڈر علی احمد عرف نادر اپنے ایک ساتھی سمیت جہنم رسید ہوا۔ یہ دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، قومی املاک پر حملوں اور بے گناہ بلوچوں کے قتل میں ملوث تھا۔ کارروائی کے دوران برآمد ہونے والا اسلحہ اور دیگر سامان اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ عناصر بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کر رہے تھے۔یہ تینوں کارروائیاں اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ جنوبی بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ ہو چکی ہے۔ ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی بلوچستان میں ایف سی (ساؤتھ) نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد بلوچ عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ بلوچستان کو بدامنی، انتشار اور پسماندگی کی طرف دھکیلنا ہے۔ اگر ان عناصر کو واقعی بلوچستان اور بلوچ عوام کی فکر ہوتی تو وہ اسکولوں کو نشانہ نہ بناتے، ترقیاتی منصوبوں کو نقصان نہ پہنچاتے، عام تاجروں سے بھتہ وصول نہ کرتے اور بے گناہ شہریوں کی جانیں نہ لیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی کارروائیوں کا سب سے زیادہ نقصان خود بلوچ عوام کو پہنچا ہے۔بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی نے صوبے کی ترقی کے سفر کو کس قدر متاثر کیا ہے۔ تاہم آج حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایف سی (ساؤتھ) کی کامیاب کارروائیوں نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے متعدد اہم کمانڈر انجام کو پہنچ چکے ہیں جبکہ کئی دہشت گرد ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی رٹ مضبوط ہو رہی ہے اور دہشت گرد عناصر کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی خدمات صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ تک محدود نہیں ہیں۔ اس فورس نے اپنے ذمہ داری کے علاقوں میں عوامی خدمت، ترقی اور فلاح و بہبود کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے تعلیم، صحت، پانی، کھیلوں، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبوں میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ دور دراز علاقوں میں طبی کیمپوں کا انعقاد، تعلیمی اداروں کی معاونت، کھیلوں کی سرگرمیوں کا فروغ، صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری ایسے اقدامات ہیں جن سے ہزاروں خاندان مستفید ہوئے ہیں۔خصوصاً جنوبی بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں جہاں سہولیات محدود رہی ہیں، وہاں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔واضح رہے کہ پیغام پاکستان کے تحت 1800 سے زائد علماء نےمتفقہ طورپر ان دہشت گرد تنظیموں کے نظریات اور کاروائیوں کو فساد فی الارض قرار دیا ہے۔اسلام امن برداشت اور انسانی جان کے احترام کا مذہب ہے جبکہ یہ شدت پسند گروہ خون ریزی اور تباہی کو فروغ دیتے ہیں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بلوچستان میں بیرونی طاقتوں اور خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی میں چلنے والی کالعدم تنظیموں اوران کے سہولت کاروں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا جائے۔
فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں
واپس خبروں پر
Category:
بلوچستان