مودی  کی   سرپرستی میں   بھارتی  اشرافیہ  بے  لگام

مودی کی سرپرستی میں بھارتی اشرافیہ بے لگام

Jul 7, 2026|ویب ڈیسک

گجرات میں زرعی زمینوں پر زبردستی قبضے اور پاور پراجیکٹ کے خلاف بھوک ہڑتال جاری

احمد آباد — وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں کسان اڈانی گروپ اور دیگر بڑی پاور کمپنیوں کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ کسانوں نے مودی سرکار اور کارپوریٹ مافیا کے گٹھ جوڑ کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے اپنی زرعی زمینوں پر پاور لائنیں اور بڑے ٹاورز نصب کرنے کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔


بھارتی جریدے دکن ہیرلڈ کے مطابق، گجرات میں مودی نواز اڈانی پاور پراجیکٹ کے خلاف مقامی کسانوں کی بھوک ہڑتال اور دھرنا مسلسل جاری ہے۔ کسانوں کا موقف ہے کہ حکومت کارپوریٹ مفادات کے لیے غریب کسانوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

پولیس تشدد اور زمینوں کی زبردستی پامالی

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، اس احتجاج کے دوران کسانوں نے مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انہیں کارپوریٹ اشرافیہ کا یار قرار دینے والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔


غیر واضح معاوضہ: کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی ملکیت زرعی زمینوں پر بغیر کسی پیشگی نوٹس یا واضح مالی معاوضے کے زبردستی کام شروع کیا گیا ہے۔


زمینوں کی مستقل تباہی: مظاہرین کے مطابق ان پاور لائنوں کی تنصیب سے زمینیں مستقل طور پر ناقابل کاشت ہو جائیں گی، جس کا سب سے بڑا نقصان چھوٹے کاشتکاروں کو ہوگا۔


بین الاقوامی تضاد: بھارتی سینئر صحافی نیلو ویاس نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ملازمتوں کا جھانسا دینے والا اڈانی گروپ اپنے ہی ملک کے کسانوں کا حق مار رہا ہے۔

ریاستی جبر اور سیاسی رہنماؤں کی کڑی تنقید

گجرات حکومت کی جانب سے احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال پر اپوزیشن اور عوامی حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ بھارتی رکنِ صوبائی اسمبلی (MLA) جگنیش میوانی نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کسانوں کے حقوق کی کھل کر حمایت کی ہے۔


"گجرات حکومت نے کسانوں کو ان کی زمینوں کا جائز معاوضہ دینے کے بجائے ان پر بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مودی نواز اشرافیہ—اڈانی اور امبانی—صرف گجرات کے عوامی وسائل، فنڈز اور معدنیات کا بے دریغ استعمال کر کے ہی اتنی طاقتور ہوئی ہے، جبکہ اصل زمینداروں کو کچلا جا رہا ہے۔"

— جگنیش میوانی، رکنِ صوبائی اسمبلی


کسان رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک حکومت اور اڈانی گروپ زبردستی زمینوں پر قبضے کا فیصلہ واپس نہیں لیتے اور نقصانات کا ازالہ نہیں کرتے، ان کی یہ تحریک اور بھوک ہڑتال جاری رہے گی