دشمن کی ہائبرڈ وارفیئر ناکام بنائیں گے، کور کمانڈرز
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت اجلاس؛ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کو دوٹوک پیغام، ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری
راولپنڈی (آئی ایس پی آر) — فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلال جُرأت، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) میں منعقد ہوئی۔ فورم نے ملکی و علاقائی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور افغان طالبان رجیم کے زیر تسلط علاقوں سے پاکستان پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کے مسلسل حملوں اور ان کی منصوبہ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے آغاز پر وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی پائیدار بنیاد رہیں گی۔
آپریشن غضب للحق اور پاک افغان بارڈر کی صورتحال
عسکری قیادت نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کا انحصار اس بات پر ہے کہ افغان طالبان اپنی زمین پر موجود بھارتی پراکسیوں کو سختی سے روکیں۔ فورم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ افغان طالبان رجیم کی خود ساختہ لیڈر شپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
"پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل اور قانونی حق رکھتا ہے۔ افواجِ پاکستان افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے پنپنے والی دہشت گردی کے خلاف آپریشن 'غضب للحق' کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔" — 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس
شرکاء نے زور دیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بہترین گورننس کا نظام مہیا کرنا ناگزیر ہے۔ ایک ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے جو نہ صرف عوامی خدمت پر مرکوز ہو بلکہ مذموم سیاسی پشت پناہی میں پلنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ اور سندھ طاس معاہدے پر عسکری موقف
فورم نے سکیورٹی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی میدانِ جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد، دشمن اب ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں کی مدد سے ملک میں بدامنی اور مایوسی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کور کمانڈرز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بیرونی مدد سے انتشار پھیلانے والی ہر ایسی سازش کو بغیر کسی پس و پیش کے سختی سے کچل دیا جائے گا۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کانفرنس نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کی 24 اپریل 2025 کی ہدایات اس بارے میں حتمی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ افواجِ پاکستان حکومتی احکامات اور پاکستانی عوام کی امنگوں کے مطابق ملک کے جائز پانی کے حصے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے سے قطعی گریز نہیں کریں گی۔
کور کمانڈرز نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور خطے کے دیرپا امن کا انحصار کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے میں ہے۔ اجلاس کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے تمام کمانڈرز کو جنگ کے بدلتے ہوئے جدید رجحانات کے مطابق 'ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان' پر تیزی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تاکہ ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اہم نکات
• دہشت گردی کا قلع قمع: افغان حدود سے آپریٹ کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف آپریشن غضب للحق کے تحت ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
• افغان طالبان کو وارننگ: عسکری قیادت نے افغان طالبان کی قیادت کو باور کرایا کہ اپنی زمین پر بھارتی پراکسیز کو روکنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
• پانی کے حقوق کا تحفظ: سندھ طاس معاہدے پر بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے فوج نے 2025 کے این ایس سی فریم ورک کے تحت ہر حد تک جانے کا اعلان کر دیا۔
• انتشار پسندی کا خاتمہ: ہائبرڈ وارفیئر اور بیرونی ایجنڈے پر ملک میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔
• جدید جنگی حکمتِ عملی: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان کی رفتار تیز کرنے کا حکم دے دیا۔