ڈاکٹر ماہ نور تیزاب گردی کیس: ینگ ڈاکٹرز کا جوڈیشل انکوائری اور سیکیورٹی کا مطالبہ

ڈاکٹر ماہ نور تیزاب گردی کیس: ینگ ڈاکٹرز کا جوڈیشل انکوائری اور سیکیورٹی کا مطالبہ

Jul 6, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد پریس کلب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی اہم پریس کانفرنس، صوبائی بیوروکریسی اور ناقص سیکیورٹی کے خلاف چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

​اسلام آباد — بلوچستان میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے اور صوبائی ہسپتالوں میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) بلوچستان کے قائدین نے وفاقی دارالحکومت کا رخ کر لیا ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائی ڈی اے کے رہنماؤں نے وفاق کے سامنے بلوچستان کے ڈاکٹرز کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا اور صوبائی نظامِ صحت میں جاری سنگین انتظامی بحران کو بے نقاب کیا۔

​نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان، ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور صوبائی بیوروکریسی اس حساس معاملے پر مکمل طور پر ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔

صوبائی بیوروکریسی کی غفلت اور انتظامی بے ضابطگیاں

​ڈاکٹر بہار شاہ نے صوبائی محکمہ صحت کی اعلیٰ قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والے وحشیانہ حملے کے باوجود گزشتہ 15 دن سے سیکریٹری صحت بلوچستان سے ملاقات کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ انہوں نے انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:

​"بلوچستان میں گریڈ 20 کی اہم ترین سیکریٹری ہیلتھ کی اسامی پر گریڈ 18 کا جونیئر شخص تعینات ہے، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"

​چیئرمین وائی ڈی اے نے چیف سیکریٹری بلوچستان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکریٹری مافیا کی سرپرستی کر رہے ہیں اور گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران انہوں نے ایک بار بھی سروسز ہسپتال کا دورہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے حقوق اور سیکیورٹی کے لیے پرامن احتجاج کرنے پر ینگ ڈاکٹرز کو معطل کر کے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

​ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اہم مطالبات (چارٹر آف ڈیمانڈ)

​پریس کانفرنس کے دوران قائدین نے واضح کیا کہ اس وقت بلوچستان کے ڈھائی لاکھ ڈاکٹرز، اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین بیوروکریسی کے رویے کی وجہ سے شدید پریشان حال ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ "ہماری کسی بیوروکریٹ سے ذاتی لڑائی نہیں، ہم صرف ہسپتالوں میں کام کا محفوظ ماحول چاہتے ہیں۔"

​ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے درج ذیل مطالبات رکھے ہیں:

​جوڈیشل انکوائری: ڈاکٹر ماہ نور تیزاب گردی کے لرزہ خیز واقعے کی فوری طور پر اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔

​اعلیٰ حکام کی معطلی: سیکریٹری ہیلتھ بلوچستان اور ایم ایس (MS) سول ہسپتال کو فوری طور پر عہدوں سے معطل کیا جائے۔

​فول پروف سیکیورٹی: بلوچستان کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو مکمل اور بلا تعطل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

​ملازمتوں پر بحالی: احتجاج کی پاداش میں معطل کیے گئے تمام ینگ ڈاکٹرز کو فوری طور پر غیر مشروط طور پر ملازمتوں پر بحال کیا جائے۔

​ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ڈاکٹر ماہ نور کو انصاف فراہم نہ کیا گیا اور ہسپتالوں میں سیکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔