آپریشن شعبان بلوچستان سمیت خطے کے امن کا ضامن، عالمی سطح پر بڑی پذیرائی

آپریشن شعبان بلوچستان سمیت خطے کے امن کا ضامن، عالمی سطح پر بڑی پذیرائی

Jul 17, 2026|ویب ڈیسک

​کوئٹہ: بلوچستان سے دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے جاری "آپریشن شعبان" میں سیکیورٹی فورسز نے 'فتنہ الخوارج' اور 'فتنہ الہندوستان' کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جس کی گونج اب عالمی سطح پر بھی سنی جا رہی ہے۔

​معروف بین الاقوامی جریدے "دی ڈپلومیٹ" (The Diplomat) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، مانگی ڈیم کے قریب دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے بعد پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے مشترکہ طور پر "آپریشن شعبان" کا آغاز کیا۔ اس مہم کے دوران زمینی اور فضائی کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔

دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی تباہی اور طویل المدتی حکمتِ عملی

​عالمی جریدے نے واضح کیا کہ افغان طالبان کے حلیف فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے تھے۔ آپریشن شعبان کو ان دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک طویل المدتی عسکری مہم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

​"آپریشن شعبان کے تحت جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور اس سے وابستہ علیحدگی پسند گروپوں، جبکہ شمالی اضلاع میں فتنہ الخوارج کے نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"

— رپورٹ: عالمی جریدہ "دی ڈپلومیٹ"

​ماہرین کے مطابق، اس آپریشن کے مثبت اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے مجموعی اندرونی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر اس آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے تو یہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور بامقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔

دفاعی ماہرین کا تجزیہ اور اہم نکات

​بڑے آپریشن کی ناگزیر ضرورت: ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن شعبان کا آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دشمن عناصر کی جانب سے لاحق خطرہ اس حد تک بڑھ چکا تھا جہاں ایک فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔

​اسٹریٹجک تقسیم: مہم کے دوران شمالی اور جنوبی اضلاع میں بیک وقت الگ الگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کر کے ان کا گٹھ جوڑ توڑ دیا گیا ہے۔

​پائیدار امن کا فارمولا: عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، بدامنی سے نمٹنے کے لیے عسکری کارروائیاں ناگزیر ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی اداروں کو مضبوط بنانا اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا بھی لازم ہے۔