برکس کانفرنس: بھارتی حکام کے غیرسنجیدہ رویے اور جعلی تصاویر پر شدید تنقید

برکس کانفرنس: بھارتی حکام کے غیرسنجیدہ رویے اور جعلی تصاویر پر شدید تنقید

Sep 15, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی برکس اجلاس: بھارتی حکام کی سفارتی آداب کے منافی حرکات وائرل


نئی دہلی میں منعقدہ برکس اجلاس کے دوران بھارتی اعلیٰ حکام کا غیرپیشہ ورانہ رویہ اور سفارتی آداب کی مبینہ خلاف ورزیاں عالمی اور مقامی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئیں۔ اہم سربراہانِ مملکت کے خطابات کے دوران بھارتی نمائندوں کی غیرسنجیدگی پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔


سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیجز کے مطابق، روسی صدر کے خطاب کے دوران بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور ایرانی صدر کی تقریر کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال مبینہ طور پر کھانا کھانے میں مصروف دکھائی دیے، جس پر صارفین اور مبصرین نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سویڈن میں مقیم معروف بھارتی نژاد تعلیمی ماہر اور صحافی اشوک سوائن نے اس صورتحال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ ملکی ساکھ کو بہتر بنانے کے بجائے مودی سرکار کے لیے کریڈٹ بٹورنے اور مفت کھانوں کے چکر میں مصروف ہے۔


دوسری جانب، مودی حکومت اور حکمران جماعت بی جے پی کے حامی حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اجلاس کے حوالے سے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ تصاویر شیئر کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ان تصاویر میں 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے علاوہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی شرکت کے مناظر بھی دکھائے گئے، جس کے باعث سوشل میڈیا پر مودی سرکار کو سفارتی پروپیگنڈے اور جھوٹی کامیابی کے دعوؤں پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان جعلی تصاویر اور غیرسنجیدہ طرزِ عمل نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے سفارتی تشخص کو نقصان پہنچایا ہے