کھڈ کوچہ میں بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب
مستونگ / کھڈ کوچہ — بلوچستان کے علاقے کھڈ کوچہ میں 2 بے گناہ شہریوں اور ایک نجی کورئیر کمپنی کی تجارتی گاڑی کے اغوا کے بعد کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل اے) کا مجرمانہ نیٹ ورک اور تاوان کا مکروہ دھندا مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔
خبر کے اہم نکات
• شہریوں کا اغوا: 24 جولائی 2026ء کو بی ایل اے کے مسلح عناصر نے کھڈ کوچہ سے کورئیر کمپنی کی شاہزور گاڑی سمیت 2 شہریوں کو اغوا کیا۔
• ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ: 26 جولائی 2026ء کو دہشت گردوں نے کمپنی کے مالک سے رابطہ کر کے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے تاوان مانگا اور عدم ادائیگی پر قتل کی دھمکی دی۔
• مجرمانہ کارروائیاں: بی ایل اے اب بینک ڈکیتیوں، بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کے ذریعے مالی وسائل اکٹھا کر رہی ہے۔
• مقامی معیشت کو نقصان: ان مجرمانہ سرگرمیوں سے سب سے زیادہ نقصان عام بلوچ عوام، مقامی تاجروں اور امن و امان کو پہنچ رہا ہے۔
کھڈ کوچہ واقعہ اور تاوان کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق 24 جولائی 2026ء کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے کھڈ کوچہ کے مقام پر نجی کورئیر کمپنی کی شاہزور گاڑی کو روک کر اس میں سوار 2 بے گناہ شہریوں کو اغوا کر لیا۔
بعد ازاں 26 جولائی 2026ء کو دہشت گردوں نے کورئیر کمپنی کے مالک سے رابطہ کیا اور مغویوں کی سلامتی کے عوض 2 کروڑ 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں مغویوں کو جان سے مارنے کی صریح دھمکی دی گئی ہے۔
"دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی کارروائیاں اب محض عسکری حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ بینک ڈکیتیوں، گاڑیوں کی چھینا جھپٹی، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے منظم جرائم تک پھیل چکی ہیں۔"
دہشت گردی کی مالی معاونت اور عوام پر اثرات
معاشی و سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق نجی اداروں، تاجروں اور عام شہریوں کو مالی وسائل کی حصولی کے لیے نشانہ بنانا بی ایل اے کے مجرمانہ نیٹ ورک اور دہشت گردی کی مالی معاونت (Terror Financing) کا واضح ثبوت ہے۔
مجرمانہ فعل مقصد اور علاقے پر اثرات
اغوا برائے تاوان نجی کمپنیوں اور شہریوں سے کروڑوں روپے کی جبری وصولی
گاڑیوں کی چھینا جھپٹی لاجسٹک سپورٹ کی فراہمی اور تجارتی نقل و حرکت کی ناگہانی معطلی
بھتہ خوری و لوٹ مار مقامي تاجروں میں خوف و ہراس اور بلوچستان کے معاشی استقرار کی تباہی
ان مجرمانہ کارروائیوں کا سب سے زیادہ خمیازہ عام بلوچ عوام اور مقامی کاروباری طبقات کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جس کا مقصد علاقے میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا قائم رکھنا ہے
۔