ہندوتوا مہم کے تحت مسلم خواتین کی جعلی اور نازیبا تصاویر بنانے کا انکشاف
ہندوتوا مہم کے تحت مسلم خواتین کی جعلی اور نازیبا تصاویر بنانے کا انکشاف؛ عالمی سطح پر شدید تشویش
نئی دہلی (ویب ڈیسک): انتہاپسند مودی حکومت کے زیرِ سایہ بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف گہری ہوتی نفرت، توہین آمیز رویے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے زہریلے استعمال کا ہولناک انکشاف ہوا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ہندوتوا کے پیروکار مسلم خواتین کو نشانہ بنانے، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور آن لائن ہراساں کرنے کے لیے ڈیپ فیک اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ہندوتوا مہم کے تحت مسلم خواتین کی اصل تصاویر اور ویڈیوز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے غیراخلاقی خاکوں اور نازیبا مناظر میں تبدیل کر کے انٹرنیٹ پر پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈا مسلم خواتین کو نفسیاتی اور سماجی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
انسانی حقوق کے بھارتی اہلکار سمیر نے اس حوالے سے تکنیکی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے:
"مسلم خواتین کی مرضی اور اجازت کے بغیر ان کی عام تصاویر کو اے آئی ٹولز کے ذریعے اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے جیسے وہ کسی غیراخلاقی سرگرمی میں ملوث ہوں، جو کہ ان کی ذاتی زندگیوں کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔"
کلیدی حقائق اور رپورٹ کے ہولناک اعداد و شمار (Key Takeaways)
ہزاروں جعلی ویڈیوز کی تیاری: رپورٹ کے مطابق صرف مئی 2023 سے مئی 2025 کے دو سالہ عرصے کے دوران ایسی 13 لاکھ (1,300,000) سے زائد غیراخلاقی اور جعلی ویڈیوز بنائی گئیں جن میں مسلم خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔
معاشرتی سرپرستی: 'سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ' کی ڈائریکٹر ایویین لیڈگ کے مطابق، ہندوتوا کے زیرِ اثر موجودہ بھارتی معاشرے کا ڈھانچہ مسلم خواتین کے خلاف بننے والی ان نازیبا ویڈیوز کو روکنے کے بجائے مزید تقویت فراہم کرتا ہے۔
مسلسل ہراسانی: بھارت میں مسلم خواتین کئی سالوں سے منظم آن لائن نفرت انگیز مہمات کا شکار ہیں، تاہم اب اے آئی کے آنے سے اس خطرے کی شدت مہیب صورت اختیار کر چکی ہے