ڈریپ اور فارما کمپنیوں کی ملی بھگت: ادویات کی قیمتوں میں 4000 فیصد تک اضافہ
اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے افسران اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے مابین مبینہ نامقدس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پنجاب حکومت کے سرکاری ریٹ اور اوپن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں میں 4000 فیصد تک کا ہوشربا فرق پیدا ہو چکا ہے، جس سے غریب اور معذور مریض شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
ادویات کی قیمتوں پر سے حکومتی کنٹرول ختم ہوتے ہی ملک کے ادویاتی شعبے کو شدید دھچکا پہنچا ہے:
فارما کمپنیوں کا انخلا: پانچ بڑی ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیاں پاکستان میں اپنے تمام آپریشنز بند کر کے ملک چھوڑ گئی ہیں۔
سرمایہ کاری کا خروج: ان کمپنیوں کے پاکستان سے جانے کے باعث ملک کو 5 ارب ڈالر کی زبردست غیر ملکی سرمایہ کاری سے محروم ہونا پڑا ہے۔
عوام کی جیبوں پر ڈاکہ اور صحت عامہ کا بحران
ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے ڈریپ کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے باعث پیدا ہونے والے تشویشناک حقائق کا پردہ چاک کیا ہے:
بنیادی ادویات کی مہنگائی: دل، شوگر اور بخار جیسی جان بچانے والی ادویات مارکیٹ میں 10 سے 30 گنا زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔
غیر معیاری آلات اور بیماریاں: ملک بھر میں غیر جراثیم کش اور غیر معیاری سرنجوں کی فروخت جاری ہے، جس کے باعث ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
کوالٹی ٹیسٹنگ کی عدم موجودگی: ڈریپ کے پاس طبی آلات اور جدید میڈیکل ڈیوائسز کی معیار کی جانچ (Quality Testing) کی کوئی بھی سہولت میسر نہیں۔
ممنوعہ ادویات کی رجسٹریشن: یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں ممنوعہ (Banned) ادویات کو ڈریپ نے پاکستان میں فروخت کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن جاری کر دی ہے۔
ڈریپ افسران اور ڈاکٹرز پر سنگین مالی کرپشن کے الزامات
رپورٹ کے مطابق ڈریپ کے سابقہ و موجودہ عہدیدار فارماسیوٹیکل مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں اور بھاری مراعات حاصل کر رہے ہیں:
بیرونِ ملک دورے اور منی لانڈرنگ: ڈریپ حکام نے فارما کمپنیوں کی فنڈنگ پر 100 سے زائد غیر ملکی دورے کیے اور بھاری رقم کی منی لانڈرنگ کی۔
ڈاکٹرز کا کمیشن کلچر: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1000 میں سے 999 ڈاکٹرز بیماری کے بجاۓ فارما کمپنیوں سے ملنے والی رشوت، کمیشن اور مراعات کی بنیاد پر ادویات تجویز کر رہے ہیں ] اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت اور قانونی کارروائی کا مطالبہ
پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کو مفت ادویات کی فراہمی مکمل طور پر ناممکن ہو جائے گی۔ انہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:
نوٹیفکیشن کی منسوخی: ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ (کنٹرول سے آزاد) کرنے کا نوٹیفکیشن فی الفور منسوخ کیا جائے۔
مجرمانہ تحقیقات: کرپٹ ڈریپ افسران اور فارماسیوٹیکل مافیا کے خلاف نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کر کے لوٹی گئی رقم قومی خزانے میں واپس لائی جائے۔
صوبائی خودمختاری: آئینِ پاکستان کے تحت ادویات کی رجسٹریشن اور قیمتوں کے تعین کے تمام اختیارات فوری طور پر صوبوں کو منتقل کیے جائیں