بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے پنجاب کے 5 مزدور سپردِ خاک

بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے پنجاب کے 5 مزدور سپردِ خاک

Jul 14, 2026|ویب ڈیسک

پسرور/رحیم یار خان (ویب ڈیسک): بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پانچ معصوم محنت کشوں کو نم آنکھوں کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کا تعلق پسرور، رحیم یار خان اور نارووال سے تھا جو وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔

شہداء کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے مناظر انتہائی رقت آمیز تھے، جس میں مقامی سیاسی و سماجی شخصیات، ورثاء اور شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کر کے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پسرور کے کزن محمد حسن اور محمد قدیر ایک ہی قبرستان میں دفن

بلوچستان میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے والے نوجوانوں میں سے دو کا تعلق پسرور سے تھا، جو آپس میں کزن بھی تھے۔ محمد حسن کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں ہیبت پور جبکہ محمد قدیر کی نمازِ جنازہ بٹر بڈیانہ میں ادا کی گئی۔

دونوں محنت کش نوجوانوں کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ کزن ہونے کے ناطے دونوں نوجوان ایک ساتھ بلوچستان میں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے تھے کہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

رحیم یار خان کے دو نوجوان بلال غنی اور بلال قدیر بھی منوں مٹی تلے جا سوئے

سانحے کا شکار ہونے والے مزید دو مزدوروں کا تعلق رحیم یار خان سے تھا۔ 40 سالہ بلال غنی بستی جٹکی کا رہائشی تھا اور اپنے پیچھے بیوہ اور ایک 3 سالہ بیٹی رابعہ کو سوگوار چھوڑ گیا ہے۔ اس کی نمازِ جنازہ جٹکی بستی جنازہ گاہ میں ادا کی گئی۔

دوسرے نوجوان، 20 سالہ بلال قدیر کا تعلق فلڈ کالونی سے تھا، جن کی نمازِ جنازہ اور تدفین ان کے آبائی قبرستان میں کی گئی۔ دونوں شہداء گزشتہ 2 سال سے بلوچستان میں مزدوری کر کے اپنے پسماندگان کی کفالت کر رہے تھے۔

اہم ترین حقائق اور جانی نقصان (Key Details)

شہداء کا تعلق: پسرور (2)، رحیم یار خان (2)، نارووال (1)۔

مزدوری کا مقصد: تمام مقتولین غریب گھرانوں کے واحد کفیل تھے جو محنت مزدوری کے لیے بلوچستان گئے تھے۔

حکومت سے اپیل: مقتولین کے اہل خانہ کا دہشت گردوں کو فوری گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ۔

نارووال کا 17 سالہ محسن رضا؛ گھر کا واحد سہارا چھن گیا

نارووال کی غازی وال کالونی سے تعلق رکھنے والے محض 17 سالہ نوجوان محسن رضا کی نمازِ جنازہ اور تدفین بھی ان کے آبائی علاقے میں کر دی گئی۔ محسن رضا اپنے گھر کا واحد معاشی سہارا تھا جو اتنی کم عمری میں رزقِ حلال کمانے دور دراز علاقے گیا ہوا تھا۔

تدفین کے موقع پر مقتول کے والد نے انتہائی غمگین لہجے میں حکومت اور مقتدر اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا:

"میرا معصوم بیٹا محنت مزدوری کر کے ہمارا پیٹ پال رہا تھا۔ وہ ہمارے گھر کا واحد سہارا تھا جسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو ڈھونڈ کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔" — مقتول محسن رضا کے والد