بھارتی ریاست منی پور میں حالات پھر کشیدہ، مشتعل ہجوم کا آسام رائفلز کے کیمپ پر حملہ
مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے باعث امن و امان خراب، مظاہرین نے متعدد گاڑیاں پھونک دیں
امفال/نئی دہلی: بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی کی مودی حکومت کی ناقص اور ناکام پالیسیوں کے باعث حالات ایک بار پھر انتہائی سنگین ہو گئے ہیں، جہاں عوام اور سیکیورٹی فورسز ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق منی پور کے ضلع سیناپتی میں سیکیورٹی فورسز کے ایک مبینہ سرچ آپریشن کے بعد مقامی آبادی شدید اشتعال میں آ گئی اور انہوں نے آسام رائفلز کے فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔
سیکیورٹی فورسز پر مسلسل حملے مودی سرکار کے خلاف عوامی بیزاری کا عکاس: بھارتی میڈیا
معروف بھارتی جریدے "دی نیو انڈین ایکسپریس" نے منی پور میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین نے آسام رائفلز کی عمارت پر شدید پتھراؤ کیا، فوجی احاطے میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں کھڑی 3 سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ حکام کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تشویش
بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی مبصرین نے اس واقعے کو مودی سرکار کی انتظامی ناکامی قرار دیا ہے:
حملوں میں تیزی: بھارتی جریدے "دی اکنامک ٹائمز" کے مطابق، گزشتہ دس دنوں کے دوران آسام رائفلز پر ہونے والا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے، جو سیکیورٹی اداروں کے خلاف کھلے عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ردعمل: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی حکومت منی پور میں انسانی حقوق کے تحفظ اور جاری نسلی و سیاسی تشدد کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے یہ عوامی حملے ظاہر کرتے ہیں کہ مودی حکومت خطے میں امن قائم کرنے کا اخلاقی اور انتظامی جواز کھو چکی ہے۔