سانحہ زیارت دھرنا مذاکرات میں بڑا بریک تھرو، حکومت اور کمیٹی میں معاہدے کا ڈرافٹ تیار
جمعہ کی نماز کے بعد فریقین کے دستخط متوقع، شہداء کی میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کی جائیں گی
کوئٹہ: سانحہ زیارت کے خلاف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جاری دھرنے کو ختم کرنے کے لیے حکومتی مذاکراتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے مابین اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے، جس میں ایک جامع معاہدے (ڈرافٹ) پر مکمل اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر دھرنے اور مذاکرات کے حوالے سے چلنے والی بعض منفی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور فریقین کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ مضبوط ہے۔
معاہدے پر حتمی دستخط کے بعد ڈرافٹ دھرنا شرکاء کے سامنے پیش کیا جائے گا
ذرائع کا کہنا ہے کہ طے پانے والے ڈرافٹ پر آج بروز جمعہ نماز کے بعد دونوں فریقین باقاعدہ دستخط کریں گے۔ دستخطوں کا عمل مکمل ہوتے ہی اس مشترکہ دستاویزی معاہدے کو کوئلہ پھاٹک پر موجود دھرنے کے شرکاء اور شہداء کے لواحقین کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
دھرنا کمیٹی اور حکومتی وفد کے مابین اگلے مراحل کی تفصیلات
کمیٹی کے ذمہ داران اور حکومتی حکام کے مابین طے پانے والے شیڈول کے مطابق درج ذیل اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں:
میتوں کی روانگی: معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہوتے ہی دھرنے میں موجود شہداء کے اجسادِ خاکی کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیا جائے گا۔
رابطوں کا تسلسل: دھرنا ختم ہونے کے باوجود طے شدہ نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے مابین مستقل رابطہ اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
افواہوں کی تردید: انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور صرف مروجہ سرکاری و مصدقہ ذرائع پر اعتماد کریں۔