طالبان کا تاریک دور: افغان خواتین کے خلاف صنفی امتیاز ریاستی پالیسی میں تبدیل

طالبان کا تاریک دور: افغان خواتین کے خلاف صنفی امتیاز ریاستی پالیسی میں تبدیل

Jul 22, 2026|ویب ڈیسک

کابل: طالبان انتظامیہ نے افغانستان میں خواتین کے حقوق اور آزادیاں سلب کر کے صنفی امتیاز کو اپنی باقاعدہ ریاستی پالیسی بنا لیا ہے، جس کے نتیجے میں افغان خواتین اور لڑکیوں کا مستقبل شدید تاریکی کا شکار ہو چکا ہے۔

برطانوی جریدے "دی نیو ورلڈ" کی تازہ ترین رپورٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان رجیم نے ایسے معاشرتی نظام کو نافذ کر دیا ہے جس کا مقصد خواتین کو عمومی و قومی زندگی سے مکمل طور پر منقطع کرنا ہے۔

بنیادی حقوق پر قدغنیں اور روزگار کے مواقع میں کمی

رپورٹ کے مطابق سال 2021 سے چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر سخت پابندی عائد ہے، جبکہ خواتین کے کام کرنے کے حق کو بھی انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔

احصائیاتی و میدانی حقائق:

• سرکاری ملازمتوں میں کمی: 2023 کے بعد سے افغان سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا تناسب 21 فیصد سے گھٹ کر محض 17.7 فیصد رہ گیا ہے۔

• اقتصادی تباہی: افغان خواتین کو معاشی دھارے سے الگ کرنے کے باعث افغانستان کو سالانہ 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان ہو رہا ہے، جس میں وقت کے ساتھ مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

• صحت اور تعلیم کا بحران: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تربیت یافتہ پیشہ ور خواتین کی عدم دستیابی بچوں کی بنیادی تعلیم، صحت کی سہولیات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دے گی۔

بین الاقوامی ردعمل اور انسانی حقوق کی آواز

افغان تائیکوانڈو کھلاڑی اور انسانی حقوق کی سرگرم رہنما مرضیہ حمیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان نے افغان خواتین کا وجود عمومی زندگی سے مٹانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "تعلیم پر پابندی اور امتیازی سلوک کو باقاعدہ ریاستی پالیسی بنا کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جہاں خواتین کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔"

عالمی برادری اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے ان اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے