ٹینڈر منظور ہونے کے باوجود تعمیراتی کام بند؛ انتظامیہ پر ٹھیکیدار سے 15 فیصد کمیشن مانگنے کا الزام
پارا چنار — صوبائی حکومت کی مبینہ نااہلی اور شدید غفلت کے باعث اپر کرم کا سب سے اہم ترقیاتی منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ پارا چنار کو اہم علاقے ’زیڑان‘ سے ملانے والی سڑک کا ٹینڈر قانونی طور پر منظور ہونے کے باوجود تاحال تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا، جس نے صوبائی انتظامیہ کے ترقیاتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
سڑک کی شدید خستہ حالی اور حکومتی سرد مہری کے خلاف اپر کرم کے مقامی لوگوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لاکھوں کی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ بنیادی سفری سہولیات سے محروم ہو کر رہ گیا ہے۔
فنڈز کی عدم ادائیگی اور انتظامی بدعنوانی کا انکشاف
علاقے کے معززین اور مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے منصوبے کے تعطل کے پیچھے چھپے اسباب سے پردہ اٹھایا ہے۔ شہریوں کے مطابق اس اہم منصوبے کو دانستہ طور پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر روکا گیا ہے:
ٹھیکیدار کو فنڈز کی بندش: متعلقہ ٹھیکیدار کو سرکاری سطح پر ادائیگیاں روک دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے مشینری اور افرادی قوت موجود ہونے کے باوجود کام عارضی طور پر معطل ہے۔
15 فیصد کمیشن کا مطالبہ: مقامی شہریوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ٹھیکیدار کو کام شروع کرنے کے عوض 15 فیصد غیر قانونی کمیشن دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
معمولاتِ زندگی مفلوج: مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ "اس تباہ حال سڑک نے ہمارا جینا محال کر دیا ہے۔ سڑک پر گہرے گڑھوں کی وجہ سے مریضوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو ہسپتال منتقل کرنا ایک عذاب بن چکا ہے، اور کئی بار بروقت طبی امداد نہ ملنے سے قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔"
اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ
اہلِ پارا چنار اور اپر کرم کے عوام نے انتظامیہ کی اس مجرمانہ غفلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس، گورنر اور اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن مافیا کا محاسبہ کیا جائے اور سڑک کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کروا کر لاکھوں انسانوں کو اس معاشی و سفری اذیت سے نجات دلائی جائے۔