آپریشن شعبان میں بڑی کامیابی: 9 مزید خارجی دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہو گئی
بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے کریک ڈاؤن میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور موثر ترین کارروائی کرتے ہوئے فتنة الخوارج کے مزید 9 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زیرِ اہتمام مشترکہ "آپریشن شعبان" کے تحت دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی سلسلوں میں چھپے شرپسندوں کے خلاف زمینی اور ہوائی ایکشنز کیے گئے۔ اس تازہ ترین کامیابی کے بعد 5 جولائی سے اب تک مارے جانے والے خارجیوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے۔
سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں میں ہوائی و زمینی آپریشنز تیز
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، جہاں جدید ترین فضائی اور زمینی جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے خوارج کے ٹھکانوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:
آپریشن شعبان کے سنگ میل: تازہ ترین جھڑپوں کے بعد صرف آپریشن شعبان کے تحت ہلاک ہونے والے خوارج کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔
مجموعی نقصانات: 5 جولائی سے اب تک شروع کیے گئے تمام انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) اور آپریشن شعبان کی مشترکہ کامیابیوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 88 خارجی دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔
حتمی عزم: سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی سرزمیں سے آخری دہشتگرد کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشن پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔
پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مثالی اشتراکِ عمل
اس آپریشن کی سب سے بڑی خاصیت تمام سیکیورٹی اداروں کا مثالی تال میل ہے۔ جہاں پاک فوج اور ایف سی کے دستے ہارڈ ٹارگٹس کو کلیئر کر رہے ہیں، وہیں بلوچستان پولیس نے شہری اور نیم شہری علاقوں میں سیکیورٹی گھیرا مزید سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شرپسندی کا فوری قلع قمع کیا جا سکے