کوئٹہ دھرنا: وزیرداخلہ ضیاء لانگو کی مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی

کوئٹہ دھرنا: وزیرداخلہ ضیاء لانگو کی مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی

Jul 11, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر سانحہ زیارت کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے میں اس وقت اہم پیشرفت سامنے آئی جب وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو آدھی رات کو مذاکرات کے لیے خود مظاہرین کے پاس پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی اور وزیر داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے دھرنے کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت متاثرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور تمام شہدا کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

سانحہ زیارت پر پورا معاشرہ افسردہ ہے: میر ضیاء اللہ لانگو


وزیر داخلہ نے دھرنے کے شرکاء سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور پورا معاشرہ اس حیوانیت سوز واقعے پر شدید غم و غصے میں ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا:


حکومتی شہدا: "یہ تمام شہدا کسی ایک خاندان کے نہیں، بلکہ حکومت اور پوری ریاست کے شہدا ہیں۔"


نعم البدل ناممکن: "انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، لیکن حکومت لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔"


وزیر اعلیٰ کی ہدایات: "وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خصوصی طور پر مجھے آدھی رات کو ہدایت کی کہ میں فوراً لواحقین اور دوستوں سے مل کر ان کے تحفظات دور کروں۔"


مذاکرات کی کامیابی اور مظاہرین کے مطالبات

انتظامیہ اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا یہ دور انتہائی اہم موڑ پر ہوا ہے۔ صوبائی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امن و امان کے قیام اور متاثرہ خاندانوں کی دادرسی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے