طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت تیز، افغانستان فریڈم فرنٹ کے 21 بڑے حملے
طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت تیز، افغانستان فریڈم فرنٹ کے 21 بڑے حملے
کابل: افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح مزاحمتی تحریکوں نے اپنی عسکری سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ملک کے مختلف صوبوں میں کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے। طالبان مخالف سرگرم مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان فورسز کے خلاف 21 بڑی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے।
بدخشان مرکزی محور، کابل اور کندوز کے فوجی ہوائی اڈے نشانہ
افغانستان فریڈم فرنٹ کے باضابطہ بیانات کے مطابق، 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران کی جانے والی کارروائیوں کا بنیادی مرکز شمال مشرقی صوبہ بدخشان رہا، جہاں زیباک اور فیض آباد کے اطراف میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔
کارروائیوں کے اہم اہداف اور تفصیلات:
متاثرہ صوبے: بدخشان کے علاوہ بغلان، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں طالبان کے ٹھکانوں پر منظم گوریلا حملے کیے گئے।
اسٹریٹجک تنصیبات پر وار: کابل اور کندوز کے عسکری ہوائی اڈوں کو راکٹوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا।
سازوسامان اور پوزیشنز کا نقصان: طالبان کے فوجی قافلوں، حفاظتی چوکیوں، ڈرونز اور دفاعی مراکز کو تباہ کر کے اہم دفاعی پوزیشنوں پر پیش قدمی کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان کے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں।
دفاعی ماہرین کا تجزیہ: طالبان کی عسکری گرفت پر سوالات
دفاعی و اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق، افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی مربوط کارروائیوں میں اضافہ طالبان انتظامیہ کے سیکیورٹی دعوؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے। ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک بھر کے کلیدی لاجسٹک روٹس اور فوجی مراکز پر بڑھتے ہوئے حملے موجودہ رجیم کی عسکری گرفت کمزور ہونے کا واضح اشارہ ہیں۔