مودی سرکار کی وعدہ خلافی پر بھارتی نوجوانوں کا 5 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

مودی سرکار کی وعدہ خلافی پر بھارتی نوجوانوں کا 5 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

Aug 26, 2026|ویب ڈیسک

مودی سرکار کی وعدہ خلافی پر بھارتی نوجوانوں کا 5 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

​نئی دہلی: بھارتی حکومت کی جانب سے امتحانی پرچہ جات لیک ہونے کے تنازعات اور کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنے کے خلاف نوجوانوں اور طلباء کی تنظیم نے 5 ستمبر کو ملک بھر میں دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔​H2: سی جے پی کی جانب سے مودی حکومت پر سنگین الزامات

​کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سورو داس نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ نئی دہلی انتظامیہ نے طلباء اور نوجوانوں کے بنیادی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔

​ترجمان کے اہم نکات:

​متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی عدم ادائیگی: پرچہ جات کے افشاء (Paper Leak) کے باعث مایوسی اور ذہنی دباؤ کے زیر اثر جان کی بازی ہارنے والے طلباء کے والدین کو حکومتی اعلانات کے باوجود تاحال کوئی مالی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔

​مقدمات کی منسوخی کا وعدہ نامکمل: پرامن مظاہروں کے دوران گرفتار طلباء کے خلاف درج کی گئی پولیس ایف آئی آرز واپس لینے کی باضابطہ یقین دہانی پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھارتی فورسز کے مظالم کے انکشافات

​عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نوجوان مظاہرین کے خلاف غیر قانونی اور مہلک طاقت کے اندھا دھند استعمال کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے اہم مندرجات اور چیئرمین ایمنسٹی بورڈ کا بیان

​مہلک ہتھیاروں کا استعمال: رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے لائیو راؤنڈز، شاٹ گنز، آنسو گیس، گرینیڈز اور الیکٹرک شاکس جیسے آلات کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا۔

​پیلٹ گنز کا متنازع استعمال: سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف ان خطرناک پیلٹ گنز کا استعمال کیا جو بینائی چھیننے اور اموات کا سبب بنتی ہیں۔

​آکر پٹیل کا بیان: چیئرمین ایمنسٹی انٹرنیشنل بورڈ آکر پٹیل کا کہنا ہے کہ حکام نے پہلے مواصلاتی بلیک آؤٹ اور رکاوٹیں کھڑی کیں اور بعد ازاں جمہوری حقِ احتجاج کو دبانے کے لیے غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت آزمائی۔