بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے پہلی زرعی تحقیقی لیبارٹری قائم
ملتان (ویب ڈیسک): پاکستان کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنانے اور بنجر زمینوں کی بحالی کے لیے پاک چین تعاون سے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے اشتراک سے ملک کی پہلی جدید زرعی تحقیقی لیبارٹری قائم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد صحرائی اور غیر آباد اراضی کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کاشت کاری کے قابل بنانا ہے۔
نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان اور چین کی تاریم یونیورسٹی کا اسٹریٹجک معاہدہ
اس انقلابی منصوبے کے تحت چین کی معروف تاریم یونیورسٹی اور محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان (MNSUA) مل کر کام کریں گی۔ یہ شراکت داری جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور مقامی کسانوں کو جدید خطوط پر تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
"جدید زراعت اور بنجر زمینوں کی بحالی کے پائیدار اقدامات سے پاکستان عالمی زرعی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔" — صنعتی ماہرین
ڈرون ٹیکنالوجی اور سمارٹ آبپاشی کا تعارف
منصوبے کے تحت پاکستانی زراعت میں پہلی بار کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل سمارٹ سسٹمز متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
ڈیزرٹ سولر گرین ہاؤس سسٹم: شمسی توانائی سے چلنے والے یہ گرین ہاؤسز شدید موسم میں بھی فصلوں کی حفاظت کریں گے۔
ڈرون مانیٹرنگ: فصلوں کی نگرانی اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال۔
جدید ڈرپ آبپاشی: صحرائی علاقوں میں پانی کی بوند بوند کا درست استعمال یقینی بنانے کے لیے سمارٹ ایریگیشن نیٹ ورک۔
اہم فوائد اور مستقبل کے اہداف (Key Takeaways)
پیداوار میں 35 فیصد اضافہ: کم لاگت والے ڈیزرٹ سولر گرین ہاؤس سسٹم سے زمین کا بہترین استعمال ممکن ہوگا، جس سے زرعی پیداوار میں 35% تک واضح اضافہ متوقع ہے۔
صحرائی علاقوں کی کایا پلٹ: پاکستان کی وسیع اور غیر استعمال شدہ صحرائی اراضی کو قومی زرعی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔
پائیدار ترقی: یہ پراجیکٹ نہ صرف ملکی غذائی تحفظ (Food Security) کو یقینی بنائے گا بلکہ کسانوں کی معاشی حالت کو بھی مستحکم کرے گا