پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سرفراز بگٹی
کوئٹہ (ویب ڈیسک): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں جو تا قیامت قائم و دائم رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی سلامتی اور قومی خود مختاری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے میں گورننس، سیکیورٹی اور ترقیاتی امور سمیت نوجوانوں کے روزگار سے متعلق اہم حکومتی پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ریاست مخالف عناصر کا نظریہ اور ترقی سے متعلق مغالطے کی وضاحت
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ غیر متوازن ترقی یا پسماندگی ہی تشدد کی بنیادی وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تربت اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے ماضی کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہیں، لیکن وہاں نام نہاد تحریکیں اب بھی سرگرم ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ریاست مخالف عناصر پسماندگی کے خاتمے یا ترقی کے ایجنڈے پر نہیں، بلکہ بندوق کے زور پر اپنا مخصوص نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
"ریاست مخالف قوتیں پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ تشدد، سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور دہشت گردوں کو ملنے والی نام نہاد آوازیں (Legitimate Voices) ریاست کے خلاف نفرت کو فروغ دینے کے حربے ہیں۔" — وزیر اعلیٰ بلوچستان
اہم ترین نکات اور حکومتی عزم (Key Takeaways)
مذاکرات کی شرط: آئینِ پاکستان کے دائرے میں ہر بات چیت قبول ہے، لیکن ملک توڑنے کی سوچ پر کوئی سمجھوتہ یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ریاست کی بالادستی: گورننس سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست ہر چیز سے مقدم ہے اور اس کی بقا کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔
نوجوانوں کا اعتماد: نوجوانوں کا نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے میرٹ کا قیام ناگزیر ہے۔
انٹیلیجنس کے ذریعے میرٹ کی بالادستی اور روزگار کی فراہمی
نوجوان نسل کو بااختیار بنانے اور نظام میں شفافیت لانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک اہم سنگِ میل کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں میرٹ پر مبنی نظام ہی نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کا واحد اور مؤثر ترین ذریعہ ہے۔
اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبائی حکومت جدید ترین ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی بھرتیوں کو مکمل شفاف بنانے اور سفارش و رشوت کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے نظام کو متعارف کروایا جائے گا تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔