بی جے پی اور بھارتی گودی میڈیا کا 117 ملکی و غیر ملکی شخصیات کے کھلے خط پر شدید حملہ

بی جے پی اور بھارتی گودی میڈیا کا 117 ملکی و غیر ملکی شخصیات کے کھلے خط پر شدید حملہ

Jul 3, 2026|ویب ڈیسک

​نئی دہلی / اسلام آباد — پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں نظرثانی اور سفارتی روابط کی بحالی کے لیے 117 مقتدر شخصیات کی جانب سے لکھے گئے ایک کھلے خط نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ برسرِاقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بھارتی شدت پسندوں نے اس امن اپیل کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جبکہ بھارتی کارپوریٹ میڈیا—جسے "گودی میڈیا" بھی کہا جاتا ہے—نے خط کے نکات پر بحث کرنے کے بجائے امن پسندوں کو "پاکستانی ٹاؤٹ"، "غدار" اور "دہشت گرد" قرار دینا شروع کر دیا ہے۔

​یہ امن خط بھارتی ادارے "سینٹر فار پیس اینڈ پراگرس" کی کاوشوں کا نتیجہ تھا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ روابط بحال کرنے، ویزا پالیسی میں نرمی اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب پاکستان کے ساتھ امن کی بات کرنا ایک باقاعدہ "سیاسی جرم" بنتا جا رہا ہے۔

امن خط کے اہم نکات اور نمایاں دستخط کنندگان

​اس تاریخی امن اپیل پر دونوں ممالک کی ممتاز ترین سیاسی، سماجی اور سفارتی شخصیات کے دستخط موجود ہیں:

​بھارتی شخصیات: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، حریت رہنما عمر فاروق، بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کے سابق چیف اے ایس دلت، او پی شاہ اور منی شنکر سمیت 61 سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے فضائی روٹ کھولنے کی بھی درخواست کی ہے۔

​پاکستانی شخصیات: سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، محترمہ سلیمہ ہاشمی اور سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی شامل ہیں، جنہوں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو میز پر حل کرنے پر زور دیا۔

​ادارتی نوٹ: بھارتی میڈیا نے اس امن تجویز کو ایک "پاکستانی پراکسی" کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماضی کی طرح، امن کے حامیوں کو ایک بار پھر "امن کی آشا" کا طعنہ دے کر ان کی باقاعدہ کردار کشی کی جا رہی ہے۔

اختلافِ رائے پر پابندی اور بی جے پی کا انتخابی بیانیہ

​سیاسی ماہرین کے مطابق مودی حکومت ہر امن پسند آواز کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ بی جے پی حکومت ہندو اکثریتی معاشرے کو پاکستان مخالف قوم پرستی کے چنگل میں جکڑے رکھنا چاہتی ہے تاکہ داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اختلافِ رائے اور امن کی وکالت کو "پاکستان نوازی" قرار دینے کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ملک کو انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔