*کوہلو:* بلوچستان کے ضلع کوہلو میں میونسپل کمیٹی کے ترقیاتی بجٹ اور فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے *وارڈ نمبر 1 کے عالیانی قبائل اور مقامی مکینوں* نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فنڈز کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق میونسپل کمیٹی کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا اور بعض وارڈ ممبران نے مبینہ طور پر چیف میونسپل کمیٹی کے ساتھ مل کر فنڈز کی غیر مساوی تقسیم کی، جس کے باعث وارڈ نمبر 1 کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا گیا۔
وارڈ نمبر 1 کو صرف 21 لاکھ روپے کی اسکیمیں ملنے کا دعویٰ
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہر وارڈ ممبر کے لیے تقریباً *ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز* مختص کیے گئے تھے، تاہم ان کے علاقے کے لیے صرف *21 لاکھ روپے مالیت کی ترقیاتی اسکیمیں* رکھی گئی ہیں۔
مقامی نمائندوں کے مطابق اس رقم میں سے تقریباً *7 لاکھ روپے دفتری اخراجات* کی نذر ہو جاتے ہیں، جبکہ باقی ماندہ رقم سے علاقے میں کوئی مؤثر ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنا ممکن نہیں۔
فنڈز کے استعمال میں شفافیت کا مطالبہ
عالیانی قبائل کے نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ ترقیاتی وسائل عوامی فلاح کے بجائے مخصوص افراد کے مفادات کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام وارڈز کے لیے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم مساوی اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے تاکہ ہر علاقے کے عوام یکساں طور پر ترقیاتی منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔
حکام سے تحقیقات اور تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ
مقامی مکینوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے بجٹ، ترقیاتی اسکیموں اور فنڈز کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق واضح کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت اور احتساب ہی عوامی اعتماد کی بحالی اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔