دورہ پاکستان کا مقصد ایران امریکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے، ایرانی صدر

دورہ پاکستان کا مقصد ایران امریکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے، ایرانی صدر

Jun 23, 2026|ویب ڈیسک

تہران (ویب ڈیسک): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان روانگی سے قبل ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے مابین حالیہ امن معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کی بحالی اور اس اہم ترین معاہدے کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔


معاہدے پر عملدرآمد سے مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی کا خاتمہ ہوگا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس تزویراتی (Strategic) معاہدے پر روح کے مطابق عملدرآمد سے خطے کے درپیش مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی اور امن خطے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔


"ایران امریکہ معاہدے پر مکمل عملد رآمد سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام آئے گا، اور اس طویل المدتی مقصد کے حصول کے لیے پاکستان نے ایک سچے دوست کا حق ادا کیا ہے۔" — صدر مسعود پزشکیان


پانچ اہم شعبوں میں پاک ایران دوطرفہ تعاون پر فوکس

ایرانی صدر نے اپنے دورے کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں محض علاقائی سلامتی ہی نہیں بلکہ کثیر الجہتی تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ دورے کے دوران درج ذیل کلیدی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی:


تجارت اور معیشت: دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے نئے تجارتی نیٹ ورکس کا قیام۔


سیکیورٹی اور دفاع: سرحدی انتظام اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی۔


ثقافتی سفارت کاری: عوامی سطح پر روابط اور ثقافتی تبادلوں کا فروغ۔


اسلامی بلاک کی مضبوطی اور علاقائی اتحاد (Key Takeaways)

پاکستان کے لیے تعریفی کلمات: دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد کی انتھک سفارتی کوششوں اور تہران کو فراہم کردہ سٹرٹیجک تعاون کو خصوصی طور پر سراہا جائے گا۔


مضبوط اسلامی اتحاد: صدر پزشکیان نے اعادہ کیا کہ ایران اس وقت پاکستان، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب سمیت تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی و معاشی تعلقات کو مثالی بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔


امن کی نئی راہ: یہ دورہ خطے میں بلاک پولیٹکس کے خاتمے اور مسلم امہ کے درمیان یکجہتی کی نئی راہیں کھولنے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا