افغان طالبان کا نیا پولیس قانون: عوامی مظاہروں پر مکمل پابندی عائد

افغان طالبان کا نیا پولیس قانون: عوامی مظاہروں پر مکمل پابندی عائد

Aug 24, 2026|ویب ڈیسک

حراست کی مدت 10 روز تک بڑھا دی گئی؛ مشتبہ افراد کو موت کی دھمکی اور توبہ پر مجبور کرنے کا اختیار

کابل: افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان رجیم نے نیا نام نہاد پولیس قانون (قانونِ شرطہ) نافذ کر کے ملک بھر میں عوامی اجتماعات اور پُرامن مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس متنازع قانون کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو غیرمعمولی اور جابرانہ اختیارات دے دیے گئے ہیں، جسے انسانی حقوق کے حلقے شہری آزادیوں پر کاری ضرب قرار دے رہے ہیں۔

افغان نشریاتی اداروں افغانستان انٹرنیشنل کی تفصیلی رپورٹ اور کابل ناؤ کے مطابق، طالبان کی وزارتِ انصاف نے اس قانون کی باقاعدہ توثیق کی ہے، جس کا مقصد عوام سے صدائے احتجاج بلند کرنے کا بنیادی حق بھی چھیننا ہے۔

متنازع قانون کی جابرانہ شقیں اور اختیارات

نئے نافذ کردہ قانون کے تحت پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حاصل اختیارات میں وسیع اضافہ کیا گیا ہے:

• مظاہروں پر پابندی (آرٹیکل 50): افغانستان کے تمام صوبوں اور علاقوں میں ہر قسم کے احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کے انعقاد کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

• حراست کی طویل مدت (آرٹیکل 27): پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ افراد کو بغیر عدالتی کارروائی کے 3 دن کی بجائے 10 روز تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔

• توبہ اور سخت زبان کا استعمال (آرٹیکل 41): اہلکاروں کو تفتیش کے دوران ملزمان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے، تادیبی کارروائی اور انہیں زبردستی توبہ کرنے پر مجبور کرنے کا مجاز بنایا گیا ہے۔

• موت کی دھمکیوں کی اجازت: اس قانون کی انتہائی غیرانسانی شق کے تحت سنگین جرائم کے شبہے میں گرفتار افراد کو پولیس کی جانب سے موت کی دھمکیاں دینے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کا شدید ردعمل

افغان سیاسی تجزیہ کار احمد احسان سروریار نے اس قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے اس ضابطے کے ذریعے اختلافِ رائے رکھنے والوں اور پُرامن شہریوں کے خلاف ریاستی تشدد اور طاقت کے بے دریغ استعمال کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔

انسانی حقوق کی فعال کارکن فروزان عظمیٰ کے مطابق، نئے پولیس قانون کا بنیادی ہدف معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور ذاتی آزادیوں کے دائرے کو مزید محدود کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنانا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مسلسل جابرانہ حربوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

اہم نکات:

• مظاہروں پر پابندی: آرٹیکل 50 کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے پُرامن احتجاج اور ریلیوں پر مکمل ممانعت۔

• 10 روزہ حراست: مشتبہ افراد کو تحویل میں رکھنے کی زیادہ سے زیادہ حد 3 دن سے بڑھا کر 10 دن مقرر۔

• غیرقانونی دباؤ: پولیس کو تفتیش میں سخت زبان، زبردستی توبہ اور مشتبہ افراد کو موت کی دھمکی دینے کی اجازت۔

• انسانی حقوق کی تشویش: عالمی و مقامی مبصرین کی جانب سے شہری حقوق کی سنگین پامالی پر گہری تشویش