بلوچستان خبر

عالمی سیاست کا سب سے بڑا بریک تھرو؛ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی 'اسلام آباد معاہدے' پر دستخط

عالمی سیاست کا سب سے بڑا بریک تھرو؛ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی 'اسلام آباد معاہدے' پر دستخط

اسلام آباد: خطے اور عالمی معیشت کو بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے، پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تاریخی "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoU)" پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کر دیے گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدور نے اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے۔

یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو جہاز رانی کے لیے کھول رہا ہے، جبکہ امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ تقریب اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز

اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والا یہ معاہدہ دونوں فریقین کے مابین تنازعات کے سفارتی حل کے پختہ عزم کا عکاس ہے۔ پاکستان، برادر ملک قطر کے تعاون سے کل 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی ایونٹ کی یادگار اور تکنیکی سطح کے باقاعدہ مذاکرات کے آغاز کے لیے طے شدہ آفیشل تقریب کی مہمانی کرے گا۔

اسلام آباد معاہدے کے فوری اثرات:

آبنائے ہرمز: عالمی تجارتی سپلائی چین کی بحالی کے لیے ایران کی جانب سے فوری کھولنے کا حکم۔

بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی سرحدوں پر ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔

مستقبل کا لائحہ عمل: پاکستان اور قطر کی نگرانی میں سوئٹزرلینڈ میں مستقل تکنیکی مذاکرات۔

امریکی و ایرانی قیادت کی سیاسی بصیرت کو خراجِ تحسین

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے آفیشل بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے سفارت کاری پر پختہ یقین اور پرامن حل کو ترجیح دینے کے فیصلے کو سراہا، جس نے خطے کو ہولناک نتائج سے بچایا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک کوششوں کی تعریف کی۔

دوسری جانب، انہوں نے ایرانی رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان کی حکمت، دوراندیشی اور مدبرانہ طرزِ عمل کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کے صبر اور تعمیری عزم کو بھی سراہا گیا۔

دوست ممالک اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار

اس عظیم سفارتی کامیابی کے حصول میں دوست ممالک بالخصوص قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں، اور سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ناگزیر اور قابلِ قدر تعاون کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششوں، بے لوث لگن اور کلیدی سفارتی کردار نے اس تاریخی بریک تھرو کو ممکن بنانے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی پائیدار بنیاد بنے۔