بلوچستان خبر

عالمی منظرنامے میں بڑی تبدیلی؛ امریکہ نے 'انڈو پیسیفک کمانڈ' سے بھارت کا نام ہٹا کر پرانا نام 'یو ایس پیسیفک کمانڈ' بحال کر دیا

عالمی منظرنامے میں بڑی تبدیلی؛ امریکہ نے 'انڈو پیسیفک کمانڈ' سے بھارت کا نام ہٹا کر پرانا نام 'یو ایس پیسیفک کمانڈ' بحال کر دیا

\واشنگٹن / اسلام آباد: جنوبی ایشیا کے جغرافیائی اور تزویراتی (Strategic) منظرنامے سے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 'انڈو پیسیفک کمانڈ' کے نام سے 'انڈو' کا لفظ خارج کر کے اس کا پرانا تاریخی نام یو ایس پیسیفک کمانڈ بحال کر دیا ہے۔

یو ایس پیسیفک کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ عالمی مبصرین کے مطابق، سال 2018 میں کیے گئے اقدام کی اس واپسی نے عالمی سطح پر نئی دہلی کے دفاعی قد کاٹھ اور بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

بھارت کے 'نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر' کے بیانیے کا خاتمہ

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے خطے میں خود کو 'نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر' کے طور پر پیش کر کے اپنی عسکری حیثیت کی تشہیر کر رہا تھا، جسے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ تاہم، حالیہ علاقائی توازن اور زمینی حقائق نے بھارت کی اصل عسکری استعداد اور عملی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

ان زمینی حقائق کے بعد اب عالمی دنیا اور بالخصوص امریکہ کو یہ بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت نہ تو پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے اپنی مؤثر جغرافیائی پوزیشن اور مضبوط دفاعی حکمتِ عملی کی بدولت عالمی منظرنامے میں اپنا مقام برقرار رکھا ہے۔

بھارت کے لیے بہت بڑا دھچکا؛ بھارتی دفاعی ماہر پروین سواہنی کا اعتراف

معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور سیکیورٹی امور کے ماہر پروین سواہنی نے امریکی کمانڈ کے نام کی اس تبدیلی کو نئی دہلی کے لیے ایک بہت بڑا تزویراتی دھچکا قرار دیا ہے۔

پروین سواہنی کے تجزیے کے اہم نکات:

سیاسی و جغرافیائی اہمیت کا خاتمہ: امریکی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ اب واشنگٹن کے پاس جنوبی ایشیا میں بھارت کے لیے کوئی بڑا جیو پولیٹیکل استعمال باقی نہیں رہا۔

پاک چین اثر و رسوخ میں اضافہ: امریکی پیچھے ہٹنے کے بعد اب جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کا جغرافیائی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ مزید تیزی سے بڑھے گا۔

تعلقات میں سرد مہری: دفاعی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی پاک امریکہ اور بھارت کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، جس کی کڑی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے جانے والے بھاری تجارتی ٹیرف ہیں۔

H2: ناموں کی تبدیلی محض علامتی نہیں، مستقبل کا لائحہ عمل ہے

ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، پینٹاگون کی جانب سے فوجی کمانڈز کے ناموں کی تبدیلی محض ایک علامتی اقدام نہیں ہوتی۔ یہ بنیادی طور پر آنے والے وقتوں کی نئی حکمتِ عملی، بجٹ کی ترجیحات، اور نئے جغرافیائی و اسٹریٹجک شراکت داروں کے انتخاب کی عکاس ہوتی ہے۔ امریکہ کے اس اقدام نے بھارت کے اسٹریٹجک غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔